آصف زرداری کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گھروں کی مسماری اور ڈیجیٹل آزادیوں پر قدغن حقائق چھپانے کی کوشش ہے، مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور مذہبی اداروں کی پروفائلنگ مذہبی امتیاز کی عکاس ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ یکجہتی کشمیر پر کشمیری عوام کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جائے۔ یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے بیان میں آصف زرداری نے کہا کہ بھارت کا غیرقانونی قبضہ عالمی ضمیر کے لیے سنگین چیلنج ہے، 5 اگست 2019ء کے اقدامات سے بھارت نے کشمیر پر قبضہ مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، کشمیری قیادت کی گرفتاریاں اور میڈیا پر پابندیاں قابلِ مذمت ہیں۔ آصف زرداری کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گھروں کی مسماری اور ڈیجیٹل آزادیوں پر قدغن حقائق چھپانے کی کوشش ہے، مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور مذہبی اداروں کی پروفائلنگ مذہبی امتیاز کی عکاس ہے۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ کشمیریوں کو مذہبی آزادی کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے، جنوبی ایشیاء میں امن و امان مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کرے، پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا