صدر کا یومِ یکجہتی کشمیر پر کشمیری عوام کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ یکجہتی کشمیر پر کشمیری عوام کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دیا جائے۔
یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے بیان میں آصف زرداری نے کہا کہ بھارت کا غیرقانونی قبضہ عالمی ضمیر کے لیے سنگین چیلنج ہے، 5 اگست 2019ء کے اقدامات سے بھارت نے کشمیر پر قبضہ مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، کشمیری قیادت کی گرفتاریاں اور میڈیا پر پابندیاں قابلِ مذمت ہیں۔
کشمیری عوام 7 دہائیوں سے بھارتی جبر کے خلاف آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں: سرفراز بگٹی
آصف زرداری کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گھروں کی مسماری اور ڈیجیٹل آزادیوں پر قدغن حقائق چھپانے کی کوشش ہے، مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور مذہبی اداروں کی پروفائلنگ مذہبی امتیاز کی عکاس ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ کشمیریوں کو مذہبی آزادی کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے، جنوبی ایشیاء میں امن و امان مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کرے،پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کشمیری عوام
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :