Jasarat News:
2026-07-24@01:13:07 GMT

قافلہ آزادیٔ کشمیر کہیں رُکا نہیں اور تھما نہیں ہے

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یوں تو جدوجہد آزادی کشمیر میں متعدد مراحل آتے رہے ہیں جن میں کشمیر کے دونوں جانب رہنے والے مسلمانوں نے آزادی وطن کے لیے بیش بہا جانوں کے نذرانے پیش کر کے جدوجہد آزادی کو جلا بخشی ہے بد قسمتی سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم بھارتی استبداد سے بھی پہلے اس وقت سے روا رکھے گئے ہیں جبکہ وہاں ڈوگرہ راج قائم تھا اور مسلم اکثریتی آبادی ان کے بہیمانہ جبر تلے دبے ہوئے تھے۔ تقسیم ہند کے موقع پر امید ہو چلی تھی کہ اب تاریک دور کا خاتمہ ہو گا اور کشمیری عوام بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کے ذریعے آزادی کی بہاریں دیکھ سکیں گے اور آئندہ نسلیں امن و سکون اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکیں گی۔ تاہم یہ امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب مہاراجا کشمیر ہری سنگھ نے عوامی رائے کے علی الرغم بھارت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور ہندوستان نے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار دیں تاکہ عوام کے جذبۂ الحاق پاکستان کو بالجبر دبا دیا جائے اور جنت نظیر کشمیر پر اس کا غاصبانہ قبضہ بر قرار رہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ بھارت ایک طرف تو دنیا بھر میں اپنی جمہوریت نوازی کے راگ الاپتا پھرتا ہے اور دوسری جانب وادی کشمیر کے عوامی جذبات کے بر خلاف جبرو استبداد کے ذریعہ غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے گزشتہ ساٹھ برس سے کشمیری مسلمان ہندو سامراج کی چکی میں پس رہے ہیں اور جب کشمیری حریت پسندوں نے ۴۸ء میں مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنے وطن کو بھارتی شکنجے سے آزاد کرانے کا عزم کیا اور موجودہ آزاد کشمیر سے بھارتی قبضہ چھڑا کر آزاد حکومت قائم کی اور قریب تھا کہ کشمیری مسلمان اور مجاہدین سری نگر تک پہنچ جائے کہ چانکیہ سیاست کے پروردہ پنڈت نہرو کے فوراً پینترا بدلتے ہوئے اقوام متحدہ میں دھائیاں دیں اور لشکر کشی رکوانے پر وادی میں استصواب رائے کروانے کا وعدہ کیا۔ حکومت پاکستان نے عالمی ادارے کا احترام کر تے ہوئے بیش قدمی روک دی اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کر لیا۔ تاہم وہ دن گیا اور آج کا دن آیا بھارتی حکمران اپنے وعدوں سے انحراف کر تے ہوئے وادی کشمیر میں استصواب رائے کرانے سے گریزاں ہیں اور اس مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار بڑی جنگیں اور بے شمار جھڑپیں ہو چکی ہیں تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا اور اس کا مشرقی بازو جدا کر دیا گیا۔

آج تک اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پر عمل نہیں کرا سکا جبکہ مشرقی تیمور میں اس ادارے نے انتہائی سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی ملک انڈونیشیا کو تقسیم کر دیا تاہم الکفرملۃ واحدہ کے مصداق ہندو حکمرانوں سے یہ ادارہ اب تک اپنی قرار دادوں پر عمل کرانے سے قاصر رہا ہے۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے مظلوم حریت پسند کشمیری مسلمانوں نے ۸۰ کی دہائی میں تمام تر سیاسی سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی کشمیر کا بیڑہ اٹھایا اور ۸ لاکھ ہندوستانی فوج کے مقابل مٹھی بھر مجاہدین نے اپنے مقدس لہو سے شمع آزادی کو فروزاں کیا۔ بھارتی درندے ۸۰ ہزار سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکے ہیں ہزاروں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری اور بوڑھوں بچوں کے ساتھ ساتھ گھروں دکانوں حتیٰ کہ مقدس مقامات مساجد وغیرہ کی حرمت پامال کر رہے ہیں لیکن کسی عالمی قوت کا ضمیر نہیں جا گتا۔ جمہوریت اور انسانی آزادی کے چمپئن امریکا اور اس کے حواری یورپی اقوام کشمیر کی جانب سے نظریں چرائے ہوئے استعماری قوت بھارت کی سر کوبی کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ایک پاکستان ہے جو نصف صدی سے کشمیر کاز کا پرچم سر بلند کیے ہوئے ہے اور سیاسی سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کے پر امن حل کے لیے کوشاں ہے۔ جبکہ پاکستان نے تمام جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کر کے بھارتی مطالبہ پورا کر دیا کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کیا جائے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارتی حکومت کے کیے وعدوں کے برعکس ایک مرتبہ پھر راہ فرار اختیار کر رہا اورمختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے اس مسئلہ کو سرد خانے کی نذر کرنا چاہتا ہے البتہ پاک بھارت تعلقات میں اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک کہ مسئلہ کشمیر حل نہ کیا جائے جہاں ظالم و جابر ڈوگرہ حکمرانوں کے جبرو استبداد کے خلاف کشمیری مسلمانوں کے جذبہ حریت کی علامت ہے وہیں بھارتی استعمار کے خلاف نفرت اور حصول آزادی کے عزم صمیم کا اعلان ہے۔ وادی کے دونوں جانب کشمیری پر امن ہڑتال اور مظاہروں کے ذریعے عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے اور دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کر کے انہیں اپنی جائز تحریک آزادی کی حمایت و تعاون پر راضی کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

پاکستان میں یہ دن بڑے جوش و جذبے کے ساتھ اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ملک بھر میں عام تعطیل کے ذریعہ ہڑتال کی جاتی ہے تاکہ دنیا بھر کی اقوام کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم پر ان کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ اس مرتبہ بھی ۵ فروری مقبوضہ آزاد کشمیر پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری آباد ہیں مظاہروں بینروں پوسٹروں پہلے کارڈز اور انسانی زنجیروں کے ذریعے عالمی ضمیر بیدار کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں یہ دن تجدید عہد اور اور عزم نو کا دن ہوتا ہے اور اس یقین کے اظہار کا دن ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور بالضرور کشمیری عوام بھارتی پنجۂ استبداد سے آزادی حاصل کر کے الحاق کے ذریعے تکمیل پاکستان کی آرزوؤں کی تکمیل کر کے رہیں گے۔ پاکستانی حکومت اور عوام قدم بقدم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے انہیں جبرو استبداد کی سیاہ رات سے نکال کر آزادی کی روشن و رخشندہ صبح سے ہمکنار کرنے کی جدوجہد کر تے رہیں گے یہ دن ہمیں احساس دلا تا ہے کہ قافلہ آزادیٔ کشمیر کہیں رکا نہیں اور تھما نہیں ہے بلکہ حریت پسندوں کا یہ کارواں شاہراہ آزادی پررواں دواں ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ایک دن کشمیریوں پر آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور ان کی آئندہ نسلیں اپنے مذہب روایات اور الحاق پاکستان تلے آزاد فضا میں سانس لے سکیں گی۔ آئیے ہم اور آپ بھی اس موقع پر اپنے مظلوم و مجبور کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اعلان کریں کہ بھارت کبھی حریت پسند کشمیری عوام کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ وہ جتنا چاہے مظالم ڈھالے لیکن کشمیریوں کے سینوں میں جو شمع آزادی فروزاں ہے اسے بجھا نہیں سکے گا اور اس حقیقت کو بھارت جس قدر جلدی سمجھ لے اس کے لیے وہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین۔

عمران احمد سلفی گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ذریعے ا کہ بھارت رہے ہیں ہیں اور تے ہوئے کرنے کی نہیں ا اور اس اور ان ہے اور

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار