قافلہ آزادیٔ کشمیر کہیں رُکا نہیں اور تھما نہیں ہے
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یوں تو جدوجہد آزادی کشمیر میں متعدد مراحل آتے رہے ہیں جن میں کشمیر کے دونوں جانب رہنے والے مسلمانوں نے آزادی وطن کے لیے بیش بہا جانوں کے نذرانے پیش کر کے جدوجہد آزادی کو جلا بخشی ہے بد قسمتی سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم بھارتی استبداد سے بھی پہلے اس وقت سے روا رکھے گئے ہیں جبکہ وہاں ڈوگرہ راج قائم تھا اور مسلم اکثریتی آبادی ان کے بہیمانہ جبر تلے دبے ہوئے تھے۔ تقسیم ہند کے موقع پر امید ہو چلی تھی کہ اب تاریک دور کا خاتمہ ہو گا اور کشمیری عوام بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کے ذریعے آزادی کی بہاریں دیکھ سکیں گے اور آئندہ نسلیں امن و سکون اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکیں گی۔ تاہم یہ امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب مہاراجا کشمیر ہری سنگھ نے عوامی رائے کے علی الرغم بھارت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور ہندوستان نے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار دیں تاکہ عوام کے جذبۂ الحاق پاکستان کو بالجبر دبا دیا جائے اور جنت نظیر کشمیر پر اس کا غاصبانہ قبضہ بر قرار رہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ بھارت ایک طرف تو دنیا بھر میں اپنی جمہوریت نوازی کے راگ الاپتا پھرتا ہے اور دوسری جانب وادی کشمیر کے عوامی جذبات کے بر خلاف جبرو استبداد کے ذریعہ غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے گزشتہ ساٹھ برس سے کشمیری مسلمان ہندو سامراج کی چکی میں پس رہے ہیں اور جب کشمیری حریت پسندوں نے ۴۸ء میں مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنے وطن کو بھارتی شکنجے سے آزاد کرانے کا عزم کیا اور موجودہ آزاد کشمیر سے بھارتی قبضہ چھڑا کر آزاد حکومت قائم کی اور قریب تھا کہ کشمیری مسلمان اور مجاہدین سری نگر تک پہنچ جائے کہ چانکیہ سیاست کے پروردہ پنڈت نہرو کے فوراً پینترا بدلتے ہوئے اقوام متحدہ میں دھائیاں دیں اور لشکر کشی رکوانے پر وادی میں استصواب رائے کروانے کا وعدہ کیا۔ حکومت پاکستان نے عالمی ادارے کا احترام کر تے ہوئے بیش قدمی روک دی اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کر لیا۔ تاہم وہ دن گیا اور آج کا دن آیا بھارتی حکمران اپنے وعدوں سے انحراف کر تے ہوئے وادی کشمیر میں استصواب رائے کرانے سے گریزاں ہیں اور اس مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار بڑی جنگیں اور بے شمار جھڑپیں ہو چکی ہیں تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا اور اس کا مشرقی بازو جدا کر دیا گیا۔
آج تک اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پر عمل نہیں کرا سکا جبکہ مشرقی تیمور میں اس ادارے نے انتہائی سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی ملک انڈونیشیا کو تقسیم کر دیا تاہم الکفرملۃ واحدہ کے مصداق ہندو حکمرانوں سے یہ ادارہ اب تک اپنی قرار دادوں پر عمل کرانے سے قاصر رہا ہے۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے مظلوم حریت پسند کشمیری مسلمانوں نے ۸۰ کی دہائی میں تمام تر سیاسی سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی کشمیر کا بیڑہ اٹھایا اور ۸ لاکھ ہندوستانی فوج کے مقابل مٹھی بھر مجاہدین نے اپنے مقدس لہو سے شمع آزادی کو فروزاں کیا۔ بھارتی درندے ۸۰ ہزار سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکے ہیں ہزاروں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری اور بوڑھوں بچوں کے ساتھ ساتھ گھروں دکانوں حتیٰ کہ مقدس مقامات مساجد وغیرہ کی حرمت پامال کر رہے ہیں لیکن کسی عالمی قوت کا ضمیر نہیں جا گتا۔ جمہوریت اور انسانی آزادی کے چمپئن امریکا اور اس کے حواری یورپی اقوام کشمیر کی جانب سے نظریں چرائے ہوئے استعماری قوت بھارت کی سر کوبی کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ایک پاکستان ہے جو نصف صدی سے کشمیر کاز کا پرچم سر بلند کیے ہوئے ہے اور سیاسی سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کے پر امن حل کے لیے کوشاں ہے۔ جبکہ پاکستان نے تمام جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کر کے بھارتی مطالبہ پورا کر دیا کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کیا جائے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارتی حکومت کے کیے وعدوں کے برعکس ایک مرتبہ پھر راہ فرار اختیار کر رہا اورمختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے اس مسئلہ کو سرد خانے کی نذر کرنا چاہتا ہے البتہ پاک بھارت تعلقات میں اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک کہ مسئلہ کشمیر حل نہ کیا جائے جہاں ظالم و جابر ڈوگرہ حکمرانوں کے جبرو استبداد کے خلاف کشمیری مسلمانوں کے جذبہ حریت کی علامت ہے وہیں بھارتی استعمار کے خلاف نفرت اور حصول آزادی کے عزم صمیم کا اعلان ہے۔ وادی کے دونوں جانب کشمیری پر امن ہڑتال اور مظاہروں کے ذریعے عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے اور دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کر کے انہیں اپنی جائز تحریک آزادی کی حمایت و تعاون پر راضی کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
پاکستان میں یہ دن بڑے جوش و جذبے کے ساتھ اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ملک بھر میں عام تعطیل کے ذریعہ ہڑتال کی جاتی ہے تاکہ دنیا بھر کی اقوام کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم پر ان کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ اس مرتبہ بھی ۵ فروری مقبوضہ آزاد کشمیر پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری آباد ہیں مظاہروں بینروں پوسٹروں پہلے کارڈز اور انسانی زنجیروں کے ذریعے عالمی ضمیر بیدار کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں یہ دن تجدید عہد اور اور عزم نو کا دن ہوتا ہے اور اس یقین کے اظہار کا دن ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور بالضرور کشمیری عوام بھارتی پنجۂ استبداد سے آزادی حاصل کر کے الحاق کے ذریعے تکمیل پاکستان کی آرزوؤں کی تکمیل کر کے رہیں گے۔ پاکستانی حکومت اور عوام قدم بقدم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے انہیں جبرو استبداد کی سیاہ رات سے نکال کر آزادی کی روشن و رخشندہ صبح سے ہمکنار کرنے کی جدوجہد کر تے رہیں گے یہ دن ہمیں احساس دلا تا ہے کہ قافلہ آزادیٔ کشمیر کہیں رکا نہیں اور تھما نہیں ہے بلکہ حریت پسندوں کا یہ کارواں شاہراہ آزادی پررواں دواں ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ایک دن کشمیریوں پر آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور ان کی آئندہ نسلیں اپنے مذہب روایات اور الحاق پاکستان تلے آزاد فضا میں سانس لے سکیں گی۔ آئیے ہم اور آپ بھی اس موقع پر اپنے مظلوم و مجبور کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اعلان کریں کہ بھارت کبھی حریت پسند کشمیری عوام کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ وہ جتنا چاہے مظالم ڈھالے لیکن کشمیریوں کے سینوں میں جو شمع آزادی فروزاں ہے اسے بجھا نہیں سکے گا اور اس حقیقت کو بھارت جس قدر جلدی سمجھ لے اس کے لیے وہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین۔
عمران احمد سلفی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ذریعے ا کہ بھارت رہے ہیں ہیں اور تے ہوئے کرنے کی نہیں ا اور اس اور ان ہے اور
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس