پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا: صدر و وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک:یوم یکجہتی کشمیر پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مظلوم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے جاری پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے، دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری بھائیوں کیساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ناگزیر ہے۔
مریم اورنگزیب کا رات گئےاندرونِ شہر کا دورہ، بسنت انتظامات کا جائزہ لیا
آصف علی زرداری نے کہا کہ کشمیری عوام 8 دہائیوں سے بھارتی قبضے کے خلاف ثابت قدم ہیں، یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں ہوا، کشمیریوں کی قربانیاں عزم اور حوصلے کی روشن مثال ہیں۔
صدر پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات غیرقانونی اور یکطرفہ تھے،عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کرے، پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
پھلوں کی آج کی ریٹ لسٹ -04 فروری، 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ 5 فروری کشمیریوں سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کی تجدید کا دن ہے، کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے، سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی ضامن ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارتی ہٹ دھرمی کشمیریوں کو دہائیوں سے حق رائے شماری سے محروم رکھے ہوئے ہے، مقبوضہ کشمیر آج بھی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مستحق خاندانوں کیلئے مفت موبائل سم فراہم کرنے کا اعلان
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام غیر قانونی ہے، پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، آزادی کی روشن سحر کشمیری عوام کا مقدر بن کر رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔