ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے، بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس معاملے پر اپنا دو ٹوک مؤقف اختیار کر لیا ہے اور کھیل میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
اہم داخلی و خارجی امور پر گفتگووزیراعظم نے کہا کہ ایران کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے برادرانہ کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق انہوں نے خود، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مختلف مواقع پر ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔
ایران بحران: بات چیت کے ذریعے حل کی کوششیںشہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ایران سے متعلق معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں اور خطے میں منڈلاتے خطرات کا خاتمہ ہو۔
مزید پڑھیے: پاکستان کا ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ، آئی سی سی کا ردعمل آگیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے جبکہ قطر، ترکیہ، مصر اور دیگر ممالک بھی اس سلسلے میں سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
بلوچستان میں دہشتگردی، سیکیورٹی فورسز کا مؤثر جوابوزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشتگردوں نے حملے کیے جن کا سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جوابی کارروائی میں 180 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
شہادتیں اور معصوم شہریوں کا قتلشہباز شریف نے کہا کہ دہشتگرد حملوں میں 17 سیکیورٹی اہلکار اور 31 شہری شہید ہوئے جبکہ گوادر میں دہشتگردوں نے 5 بچوں اور خواتین کو بھی نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کا مالی نقصان متوقع
انہوں نے کہا کہ نہتے شہریوں کو قتل کرنے والے انسان کہلانے کے لائق نہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گیوزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں دشمن کو شکست دی گئی اور شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور مزدوروں و بچوں کے قتل پر قوم شدید رنجیدہ ہے۔
کشمیر پر دوٹوک مؤقف اور داخلی تعاونشہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور مشرقی ہمسائے اور خوارج کی تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ان سے ملاقات کی جس میں انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت کرکٹ میچ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کرکٹ میچ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 وزیراعظم شہباز شریف انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے ورلڈ کپ میں کہ پاکستان بھارت کے کے خلاف
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔