اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان نے حملہ کیا، مشرقی ہمسایہ اور خوارج مل کر پاکستان کی ترقی میں کانٹا بننا چاہتے ہیں مگر انکی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان نے حملہ کیا، 17 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، دہشتگردوں نے31شہریوں کوشہید کیا، 180دہشتگرد جہنم رسید ہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردوں نے بچوں اور خواتین کو بھی شہید کیا، ہماری بہادر فورسز نے حملہ آوروں کو بھرپور جواب دیا۔ شہدا کے بچوں کی کفالت ریاست کے ذمہ ہے، قوم اپنے بہادر سپوتوں کو ہمیشہ یاد رکھےگی۔ پوری قوم عزم کے ساتھ سیکیورٹی ایجنسیز، افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے دشمن کوذلت آمیز شکست دی، معرکہ حق کے بعد ہمارا مخالف مشرقی ہمسایہ،خوارج مل کرترقی وخوشحالی کے راستے میں کانٹا بنناچاہتے ہیں، انشاءاللہ ایساہوگا نہیں۔ انشاءاللہ دہشتگردی کامکمل خاتمہ ہوگا اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایران کشدگی سے متعلق پاکستان نے اپنا پورا برادرانہ کرداراداکیا، میں نے،نائب وزیراعظم، فیلڈمارشل نے ایرانی قیادت سے بات چیت کی، قطر، ترکیہ، مصر، عمان، سعودی عرب کی کوشش ہے بات چیت سے راستہ نکل آئے۔ ایساراستہ نکل آئے جس سے خطے میں منڈلانے والے خطرات ختم ہوجائیں۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر پر عظیم قربانیوں پر اظہار یکجہتی کرتے ہیں، کشمیریوں سے وابستگی کا اظہارکریں گے، کل ساتھیوں کے ساتھ آزاد کشمیر جاؤں گا،بھرپوریکجہتی کاپیغام دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرسوں میرے پاس تشریف لائےتھے، بڑی اچھی گفتگو ہوئی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو انتخاب کے دن ہی فون کیا، خیبرپختونخوا کو800ارب روپے این ایف سی کے ذریعے دیئےگئے، ادائیگیوں میں تاخیر پر فوری احسن اقبال،وزیرخزانہ کے ذمے لگایا، سہیل آفریدی سے اچھی نشست ہوئی،امید ہے معاملہ آگے بڑھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار