ٹیکسلا میوزیم کے لئے نمائش اور تحفظ کے آلات کی حوالگی کی تقریب،جاپان کے سفیر کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ٹیکسلا میوزیم کے لئے نمائش اور تحفظ کے آلات کی حوالگی کی تقریب،جاپان کے سفیر کی شرکت WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )جاپان کی حکومت نے جاپان انٹرنیشنل کوپریشن ایجنسی کے ذریعے، “تکسیلا میوزیم کے لئے نمائش اور تحفظ کے آلات کی بہتری” کے عنوان سے گرانٹ اسسٹنس پروجیکٹ کے تحت، تکسیلا میوزیم کو نمائش اور تحفظ کے آلات فراہم کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔
اس موقع پر، جاپان کے سفیر، جناب اکاماتسو شوئیچی نے تکسیلا کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو گندھارا تمدن کے مرکز کے طور پر اجاگر کیا اور اس کی جاپان کے ساتھ گہرے ثقافتی تعلق کو بیان کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پہل آئندہ تعاون کے دروازے کھولے گی، جس میں آثار قدیمہ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔پنجاب کے آرکیولوجی کے ڈائریکٹر جنرل، جناب ظہیر کی نمائندگی کرتے ہوئے، چیف کنزروشنسٹ، پنجاب آرکیولوجی، جناب مقصود احمد ملک نے جاپان کی حکومت اور JICA کے لئے اپنے تحفظ کے لئے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ نئے فراہم کردہ آلات میوزیم کی قیمتی اشیا کے تحفظ اور عوامی تعلیم کے لئے مدد فراہم کریں گے۔JICA پاکستان آفس کے چیف، جناب مییاتا نے زور دیا کہ میوزیم ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اقوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ پروجیکٹ تحفظ کے معیار، ثقافتی ٹورازم اور پائیدار ورثے کے انتظام میں مدد فراہم کرے گا۔حوالگی کی تقریب نے جاپان اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور پائیدار شراکت اور ثقافتی تعاون، ورثے کے تحفظ اور عوامی تبادلے کو فروغ دینے کے لئے ان کے مشترکہ عزم کی تصدیق کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان وسط ایشیا کو تجارت کیلئے اپنی بندرگاہوں کا راستہ فراہم کرسکتا ہے،وزیراعظم پاکستان وسط ایشیا کو تجارت کیلئے اپنی بندرگاہوں کا راستہ فراہم کرسکتا ہے،وزیراعظم سندھ وژن 2030 کے حصول میں تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلی کی صدر عالمی بینک کی گفتگو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا واحد وارم اپ میچ بارش کے باعث منسوخ اپوزیشن جن معاملات پر بات کرتی ہے وہ بیٹھ کر طے ہوسکتے ہیں، ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں: طارق فضل چوہدری اسلامک ملٹری کائونٹر ٹیررازم کولیشن کے تحت انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ رویوں کے حامل افراد کی اصلاح کا پروگرام شروع دعوت اسلامی کے زیر اہتمام شب برات کے بابرکت موقع پر فیضان مدینہ میں عظیم الشان اجتماعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نمائش اور تحفظ کے آلات جاپان کے کے لئے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔