کوئٹہ سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس بحال، چمن پیسنجر ٹرین بھی چل پڑی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محکمہ ریلویز نے کوئٹہ سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس ٹرین سروس بحال کر دی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق پانچ روزہ تعطل کے بعد جعفر ایکسپریس آج کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہوگی، جس سے مسافروں کو ایک بار پھر سفری سہولت میسر آئے گی۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے چمن کے لیے چلنے والی پیسنجر ٹرین سروس بھی پانچ روز بعد بحال کر دی گئی ہے۔ چمن کے لیے پیسنجر ٹرین روانہ ہو چکی ہے، جس سے سرحدی علاقوں میں آمد و رفت بحال ہونے کی امید ہے۔
تاہم کراچی سے کوئٹہ کے لیے بولان میل تاحال معطل رہے گی۔ ریلوے حکام کے مطابق بولان میل 12 فروری تک منسوخ رہے گی اور اس حوالے سے مسافروں کو پیشگی آگاہی دی جا رہی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان میں بے امنی کے واقعات کے باعث اندرونِ ملک کے لیے ٹرین سروس 31 جنوری سے معطل تھی۔ سکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد مرحلہ وار ٹرین سروس بحال کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریلوے حکام کوئٹہ سے کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔