سالگرہ کی خوشی خوف میں بدل گئی، گیس کے غبارے پھٹنے کی چونکا دینے والی ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بھارت کے شہر ممبئی میں ایک رہائشی عمارت کی لفٹ میں گیس سے بھرے پارٹی غبارے پھٹنے سے خوفناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دو افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ ممبئی کے علاقے گورے گاؤں ویسٹ میں واقع انمول ٹاور میں پیر کی شب پیش آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون لفٹ میں داخل ہوئیں، ان کے بعد ایک ڈیلیوری ورکر غباروں کا بڑا گچھا پلاسٹک بیگ میں لے کر لفٹ میں آیا۔ اسی دوران جب ایک اور شخص لفٹ میں داخل ہونے لگا تو اچانک غباروں میں آگ بھڑک اٹھی اور زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گئے، جس سے لفٹ چند لمحوں کے لیے شعلوں میں گھِر گئی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کا گولا پورے لفٹ کیبن میں پھیل گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں 21 سالہ ہمانی تپریا کے دائیں بازو، گردن اور پیٹ پر جلنے کے زخم آئے، جبکہ 32 سالہ ڈیلیوری ورکر راجو کمار مہاتو بھی جھلس گیا۔ دونوں زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق ڈیلیوری ورکر دسویں منزل پر سالگرہ کی تقریب کے لیے غبارے پہنچانے جا رہا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے غبارے فراہم کرنے والے دکاندار کے خلاف انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
Video: Cluster Of Gas-Filled Balloons Explodes In Mumbai Lift, 3 Injured https://t.
تحقیقات کے دوران حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بات کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ غباروں میں کون سی گیس بھری گئی تھی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہائیڈروجن گیس ہو سکتی ہے جو ہیلیم کے مقابلے میں کہیں زیادہ آتش گیر ہوتی ہے۔ حکام نے شہریوں اور ڈیلیوری اسٹاف کو ہدایت کی ہے کہ وہ بند جگہوں میں ایسے خطرناک سامان لے جانے سے گریز کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لفٹ میں
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔