کراچی: رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی، ملزمان شہری سے 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ ڈالر لوٹ کر فرار
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی ہے، جس میں ایک شہری سے گھر پہنچتے ہی 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ امریکی ڈالر لوٹ لیے گئے۔
پولیس حکام کے مطابق 3 فروری کو بہادرآباد کے علاقے فاران سوسائٹی کے رہائشی شہری بینک کے لاکر سے 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ ڈالر نکال کر گھر پہنچے تھے۔ جیسے ہی گھر کا دروازہ کھلا، دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ملزمان گیراج میں داخل ہو گئے اور زیورات و نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔
شہری نے کچھ فاصلے تک ملزمان کا تعاقب بھی کیا، تاہم تیز رفتاری کے باعث ایک بڑے اسپیڈ بریکر پر موٹر سائیکلیں بے قابو ہو گئیں اور ملزمان گر پڑے، جس سے زیورات سڑک پر بکھر گئے۔
قریب موجود بنگلوں کے سکیورٹی گارڈز اور چوکیداروں کو دیکھ کر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور بکھرا ہوا سونا تحویل میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق تقریباً 90 فیصد سونا برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ایف آئی آر کے متن میں لوٹی گئی رقم اور سونے کی مجموعی مالیت 13 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ