مشہور شخصیات کی فٹنس ہمیشہ مداحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ جب کوئی اسٹار مسلسل مصروفیات، طویل شوٹنگز اور سفر کے باوجود خود کو فٹ رکھتا ہے تو لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب رہتے ہیں کہ آخر وہ ایسا کیسے کرتے ہیں۔

درحقیقت سیلیبریٹیز کی فٹنس کا تعلق کسی ایک عادت سے نہیں بلکہ نظم و ضبط، مناسب خوراک، مستقل ورزش اور ذہنی سکون کے امتزاج سے ہوتا ہے۔

سب سے پہلے ورزش کی مستقل عادت اہم ہے۔ معروف اداکار اور ماڈلز اپنی روزمرہ روٹین میں ہمیشہ کسی نہ کسی جسمانی سرگرمی کو شامل رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ جم میں ویٹ ٹریننگ اور کارڈیو کا انتخاب کرتے ہیں، کچھ یوگا اور پائلیٹس کو ترجیح دیتے ہیں جب کہ کئی سیلیبریٹیز باکسنگ اور کراس فٹ جیسے ہائی انٹینسٹی ورکس کو پسند کرتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ان کا مقصد صرف وزن کم کرنا نہیں بلکہ جسم کو ٹون رکھنا، فلیکسیبلٹی بڑھانا اور مسلسل توانائی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

اسی طرح خوراک بھی سیلیبریٹیز کی فٹنس کا بنیادی حصہ ہے۔ آج کل مشہور شخصیات پروسیسڈ فوڈ سے دور رہتی ہیں اور قدرتی غذا کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کی ڈائٹ میں زیادہ تر سبزیاں، پھل، پروٹین سے بھرپور غذا، دالیں، گریاں اور ہلکی چکنائی والے کھانے شامل ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

اسٹیم سیل تھراپی کیا ہے؟ ابھے دیول نے گھٹنوں کے درد سے نجات کا تجربہ شیئر کردیا

کئی سیلیبریٹیز انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ اپناتے ہیں جب کہ کچھ کارب سائیکلنگ یا کیلوری مینجمنٹ کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کا زیادہ استعمال ہر اسٹار کا پہلا اصول ہوتا ہے، جس سے جلد توانا اور جسم ہائیڈریٹڈ رہتا ہے۔

نیند بھی فٹنس کا اہم ستون ہے۔ مستقل ناکافی نیند نہ صرف وزن بڑھاتی ہے بلکہ جسم کی توانائی کم کرتی ہے۔ اس لیے زیادہ تر مشہور شخصیات کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی بہترین نیند کو لازمی قرار دیتی ہیں۔ شوٹنگ یا سفر کے باوجود وہ اپنی نیند کے معیار پر سمجھوتا نہیں کرتیں۔

ذہنی سکون بھی جسمانی فٹنس کے لیے ضروری ہے اور سیلیبریٹیز اس حقیقت کو خوب سمجھتی ہیں۔ اسی لیے وہ میڈی ٹیشن، ڈیپ بریتھنگ، نیچرواکس یا ہلکی پھلکی ایکسرسائز کے ذریعے ذہن کو پرسکون رکھتی ہیں۔ ذہنی تناؤ نہ صرف صحت پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ وزن کو بھی متاثر کرتا ہے، اس لیے اس توازن کو برقرار رکھنا ان کے لیے بھی اہم ہوتا ہے۔

سیلیبریٹیز کے پاس ماہر ٹرینرز اور نیوٹریشنسٹ کی رہنمائی بھی ہوتی ہے۔ یہ ماہرین ان کے جسمانی اسٹرکچر، روزمرہ مصروفیات اور اہداف کے حساب سے مکمل فٹنس پلان ترتیب دیتے ہیں، جس سے نتائج زیادہ جلدی اور بہتر انداز میں ملتے ہیں۔

لہٰذا یاد رکھیں کہ مشہور شخصیات کی فٹنس کسی جادو کی مرہونِ منت نہیں بلکہ محنت، نظم و ضبط اور صحت مند عادات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مداح چاہیں تو ان اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں لاکر نمایاں تبدیلی دیکھ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مشہور شخصیات کرتے ہیں کی فٹنس ہوتا ہے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری