یومِ یکجہتی کشمیر: خون کا وعدہ، فولاد کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
آج صبح جب آنکھ کھلی تو سینے میں بس ایک ہی دھڑکن تھی کشمیر… کشمیر… کشمیر۔ یہ کوئی نرم بات نہیں، یہ میری رگوں میں بہتا تیزاب ہے، یہ میرے بازوؤں میں چھپی طاقت ہے، یہ میرے دل کی آواز ہے جو چیخ رہی ہے کہ اب بس!
وہ ماں جو اپنے بیٹے کی لاش کو سینے سے لگا کر رو رہی ہے، اس کی چیخ میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ وہ نوجوان جو پیلٹ گن کی گولی سے آنکھ کھو کر بھی سر اٹھا کر کھڑا ہے، وہ میرا بھائی ہے۔ وہ بہن جس کی عزت کو پامال کیا گیا، اس کی آہ میرے سینے کو چیر رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر خون کھول رہا ہے، آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں، مٹھیاں بھینچ رہی ہیں۔ ہم اب روتے نہیں، ہم لڑتے ہیں۔ ہم اب التجا نہیں کرتے، ہم مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم اب انتظار نہیں کرتے، ہم چھینتے ہیں۔
پورا پاکستان آج ایک مرد کی طرح کھڑا ہے۔ کوئٹہ کی ٹھنڈی ہواؤں میں بھی آگ بھڑک رہی ہے۔ چمن کے مدرسوں سے نعرے بلند ہو رہے ہیں، زیارت کے پہاڑ گواہی دے رہے ہیں، کراچی کی گلیوں میں لاکھوں سینے چوڑے ہو کر چل رہے ہیں۔ یہ ہاتھ اب صرف دعا کے لیے نہیں اٹھتے، یہ ہاتھ اب زنجیریں توڑنے کے لیے اٹھتے ہیں۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ان کی چیخوں کو اپنی گونج بنائیں گے، ہم ان کے زخموں کو اپنا درد سمجھیں گے۔ اور ہم ان کی آزادی تک لڑیں گے، آخری سانس تک، آخری قطرہ خون تک۔
جب آرٹیکل 370 کو روندا گیا، جب کشمیر کی شناخت کو چھین لیا گیا، جب غیر کشمیریوں کو زمینیں دے کر نسل بدلنے کی سازش رچی گئی، تو ہمارا خون کھول اٹھا۔ ہم ٹوٹے نہیں، ہم اور بھی سخت ہوگئے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں کاغذ پر پڑی ہیں؟ تو کیا ہوا؟ ہمارا عزم کاغذ نہیں، فولاد ہے۔ عالمی طاقتیں بھارت کے آگے جھک رہی ہیں؟ ہم نہیں جھکیں گے۔ بھارتی فوج گولیاں چلا رہی ہے؟ تو ہم بھی اپنا جواب تیار رکھیں گے، سفارتی، سیاسی، اخلاقی اور اگر ضرورت پڑی تو ہر محاذ پر۔
آج ایک منٹ کی خاموشی میں جب آنکھیں بند کیں تو محسوس ہوا جیسے میں خود وادی کی ایک گلی میں کھڑا ہوں۔ ایک چھوٹا بچہ پتھر اٹھائے فوج کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، آگ ہے۔ اس کی مٹھی میں درد نہیں، طاقت ہے۔ اس کے دل میں خواب ہے۔ میں نے پوچھا ڈرتا نہیں؟ اس نے جواب دیا، ڈر تو انہیں لگنا چاہیے جو ہماری زمین چھین رہے ہیں۔ ہم تو بس اپنا حق واپس لے رہے ہیں۔ یہ بچہ میرا بھائی ہے۔ یہ ماں میری ماں ہے۔ یہ نوجوان میرے بھائی ہیں۔ یہ سب ہمارا خون ہیں، ہماری عزت ہیں، ہماری غیرت ہیں۔ اور جب تک ہماری رگ میں ایک قطرہ خون باقی ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے کندھے سے کندھا ملا کر، سینہ سپر ہو کر۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر کوئی تہوار نہیں، یہ جنگ کا اعلان ہے۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم راتیں جاگیں گے جب تک کشمیر کی صبح نہ آجائے۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم خون بہائیں گے جب تک کشمیر کے آنسو نہ تھم جائیں۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم لڑیں گے جب تک کشمیر آزاد نہ ہو جائے۔
کشمیر ہمارا ہے۔ کشمیر ہمارا رہے گا۔ اور ایک دن.
اس دن تک… ہم لڑیں گے۔
اس دن تک… ہم ڈٹے رہیں گے۔
اس دن تک… ہم زندہ رہیں گے اور اگر مرنا پڑا تو سر اٹھا کر مریں گے۔ کشمیر زندہ باد!
کشمیر بنے گا پاکستان! پاکستان زندہ باد!
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یہ وعدہ ہے کہ ہم رہے ہیں رہی ہے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :