نیٹ میٹرنگ نظام کے مرحلہ وار خاتمے کی تیاریوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں نیٹ میٹرنگ نظام کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تیاریاں کرلی گئیں۔
نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے مطابق نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2025 کے مسودے پر نیپرا کل عوامی سماعت کرے گا، نئے سولر صارفین سے اضافی بجلی 26 کی بجائے تقریباً ساڑھے 11روپے فی یونٹ میں خریدی جائے گی۔
نئی ریگولیشنز کے تحت سولر صارفین کے ساتھ معاہدوں کی مدت 7 سے کم کر کے 5 سال کی جائے گی جبکہ پے بیگ دورانیہ 2 سال سے بڑھا کر 5 سال کیا جائے گا۔
نیٹ بلنگ اورگراس میٹرنگ نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی ہے جس کے نتیجے میں شمسی توانائی استعمال کرنے والے صارفین کے مالی فوائد میں بڑی کمی کا خدشہ ہے۔
نوشکی، احمد وال سٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیاگیا
نئی ریگولیشنز کے تحت شمسی صارفین کو حاصل اہم سہولت ختم ہو جائے گی، گرڈ کو فراہم بجلی کو ایک کے بدلے ایک بنیاد پر استعمال شدہ بجلی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو سکے گی۔ نئی ریگولیشنز کے تحت صارفین گرڈ سے حاصل بجلی کے لیے مکمل قومی ٹیرف ادا کریں گے، اضافی شمسی بجلی نسبتاً کم مقررہ نرخ پرتقسیم کار کمپنیوں ڈسکوزکو فروخت کی جائے گی۔
ڈسکوز کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث گرڈ کے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات کی وصولی متاثرہو رہی ہے، حکومت اورڈسکوزکا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث آمدن میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
وزیر تعلیم سندھ کا بعض بورڈز کی جانب سے امتحانی فیس کی وصولی کا نوٹس
نیپرا نے شمسی صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی بجائے گراس میٹرنگ نظام کی سفارش کی ہے، نئی ریگولیشنز کے تحت بجلی کی خرید علیحدہ طور پر ریٹیل نرخوں پرکی جائے گی، نئے صارفین اپنی پیدا کردہ تمام بجلی ڈسکوز کو تقریباً ساڑھے 11 روپے یونٹ پر فروخت کریں گے۔
سی پی پی اے نے نیٹ میٹرنگ صارفین کو گرڈ پر اضافی بوجھ قرار دیا ہے، سی پی پی اے کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کی وجہ سے گرڈ صارفین پراضافی بوجھ پڑتا ہے، نیپرا نے کہا تھا کہ سولر نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین بڑھ رہے ہیں۔
نئے ریگولیشننز کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے الگ الگ ٹیرف ہوں گے، نیپرا نیٹ میٹرنگ صارف کی پیداواری صلاحیت پر نظرثانی کر سکے گا، نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بجلی کی فروخت اورخریداری کے لیے الگ الگ میٹرز ہوں گے، نیا نیٹ میٹرنگ صارف اپنی بجلی کسی دوسرے صارف کو فروخت نہیں کر سکے گا۔
سالگرہ کی خوشی خوف میں بدل گئی، گیس کے غبارے پھٹنے کی چونکا دینے والی ویڈیو سامنے آگئی
واضح رہے کہ مجوزہ نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق نئے نیٹ میٹرنگ صارفین پر ہو گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین میٹرنگ نظام صارفین کے جائے گی کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔