کشمیر محض زمین کا ٹکڑا نہیں، حقِ خودارادیت کا مقدمہ ہے، حمزہ شہباز
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ کشمیر محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقِ خودارادیت کا مقدمہ ہے۔
یومِ اظہارِ یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ بھارتی سنگینیں کشمیریوں کے جسموں کو تو زخمی کر سکتی ہیں، مگر ان کے دلوں میں موجزن آزادی کی تڑپ کو کبھی قید نہیں کر سکتیں، جب تک کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز حق نہیں دیا جاتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دہائیوں سے جاری ظلم و ستم نے پوری انسانیت کو شرمندہ کر دیا ہے، تاہم بھارتی ظلم و بربریت کی تمام تر انتہاؤں کے باوجود کشمیری عوام کے پائے استقلال میں آج بھی کوئی لغزش نہیں آئی۔
حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بچہ بچہ اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے لیے ہر فورم پر سینہ سپر رہے گا، پاکستان اور کشمیر کا رشتہ کلمۂ طیبہ اور جغرافیے کی ایسی مضبوط لکیر سے جڑا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے جس کا فوری نوٹس لیا جانا ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔