برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے لاہور میں ‘کیلیڈونین بال’ کے ذریعے اسکاٹش–پاکستانی تعلقات کا جشن
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے لاہور میں ‘کیلیڈونین بال’ کے ذریعے اسکاٹش–پاکستانی تعلقات کا جشن WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز
لاہور میں واقع تاریخی سر گنگا رام ریزیڈنس میں منعقد ہونے والے کیلیڈونین بال میں اسکاٹ لینڈ اور پاکستان کے مابین گہرے ثقافتی روابط کو اجاگر کیا گیا۔ بدھ کے روز ہونے والی اس تقریب میں روایتی بیگ پائپ موسیقی، اسکاٹش اور مقامی فنکاروں کے اشتراک سے تیار کردہ ‘وین ماؤنٹنز میٹ’ کے گیت، اور معروف ڈیزائنر ایچ ایس وائی کی ہیرس ٹویڈ کے ساتھ سابقہ کاوشوں پر مبنی اعلیٰ درجے کی فیشن پیشکش شامل تھی۔
یہ تقریب لاہور اور گلاسگو کے درمیان طے پانے والے ٹوئننگ معاہدے کی آئندہ بیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی۔ دونوں شہروں کے درمیان روابط میں بچوں کے اسپتالوں کے مابین شراکت داری اور پنجاب میں ریسکیو 1122 کے قیام کے دوران فراہم کی گئی معاونت شامل ہے۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی سینئر وزیر، حکومتِ پنجاب مریم اورنگزیب تھیں۔ ان کے ہمراہ سیاست دانوں، سرکاری حکام، سینئر کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان اور ثقافتی رہنماؤں نے شرکت کی۔ 2026 کے دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کھیلوں میں گلاسگو میں شرکت کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹس بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یہ تقریب مرکزی اسپانسرز گیری گروپ، اٹلس گروپ اور ابیکس کی معاونت سے منعقد کی گئی۔
برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان، جین میریئٹ CMG OBE نے کہا:
“اسکاٹ لینڈ کا ورثہ اور تخلیقی صلاحیتیں برطانیہ کی شناخت میں گہرائی سے پیوست ہیں، مگر پاکستان میں یہ خاص طور پر زندہ محسوس ہوتی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی روایات کو پاکستان کی امیر اور فراخدل ثقافت کے ساتھ اس قدر قدرتی ہم آہنگی میں دیکھنا دل کو چھو لینے والا ہے۔ کیلیڈونین بال ہماری کہانیوں، فنون اور لوگوں کو گرمجوشی اور خلوص کے ساتھ مناتا ہے۔”
برطانوی ہائی کمیشن لاہور آفس کے سربراہ، بین ویرنگٹن نے کہا:
“سیالکوٹ کا اسکاٹ لینڈ کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ بیگ پائپس تیار کرنا، یا ایک پاکستانی اسکاٹش شیف کا چکن تکہ مسالہ تخلیق کرنا—جو اب برطانیہ کے مقبول ترین کھانوں میں شامل ہے—یہ سب اس بات کی مثالیں ہیں کہ ہماری متحرک ثقافتیں کس طرح ایک دوسرے کو تشکیل دیتی ہیں۔ تاہم یہ روابط تجارت، تعلیم اور ترقی جیسے وسیع شعبوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔”
اسکاٹ لینڈ اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے ثقافتی تعلقات قائم ہیں، جن میں سیالکوٹ کی بیگ پائپس کی عالمی شہرت اور “اسپرٹ آف پاکستان” ٹارٹن کا اسکاٹ لینڈ کے سرکاری رجسٹر میں اندراج شامل ہے۔ رابرٹ گورڈن یونیورسٹی (RGU)، جو گریجویٹ ملازمت اور طلبہ کے تجربے کے حوالے سے اسکاٹ لینڈ کے ممتاز اداروں میں شمار ہوتی ہے، پاکستان میں نئے معاہدوں اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے ذریعے اپنی ٹرانس نیشنل ایجوکیشن شراکت داری کو وسعت دے رہی ہے۔
2013 سے اسکاٹش حکومت کے تعاون سے جاری اسکالرشپ پروگرام کے تحت 25 ہزار سے زائد پاکستانی نوجوان خواتین اور بچیوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں پاکستانی طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2014 میں 500 سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 5,500 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ طلبہ 14 جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں، جن میں گلاسگو کیلیڈونین، یو ڈبلیو ایس، اسٹرلنگ، ایڈنبرا نیپیئر اور ہیریٹ واٹ یونیورسٹی شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر’شکریہ پاکستان‘، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے متعلق شہباز شریف کے دبنگ بیان پر بنگلادیش کا ردعمل ’شکریہ پاکستان‘، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے متعلق شہباز شریف کے دبنگ بیان پر بنگلادیش کا ردعمل صنعت و تحقیق کے اشتراک کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں: سردار طاہر محمود چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی کمبوڈیا کی قومی اسمبلی کی صدر سے ملاقات ، کثیرالجہتی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ کا... کشمیر بنے گا پاکستان، بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیا جائے گا: وزیراعظم بلوچستان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد جہنم واصل رومانیہ کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی چیف آف اسٹاف وائس ایڈمرل راجا رب نواز سے ملاقات
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: برطانوی ہائی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔