لاشوں کا کاروبار، انسانیت کی تضحیک
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
مریض بے سدھ ہے، اسے کوئی ہوش نہیں۔ اس کا نظام تنفس اس وقت مصنوعی سہاروں پر ہے اور آکسیجن لگی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اب یہاں مزید علاج ممکن نہیں تھا، لہٰذا مریض کو کسی دوسرے اسپتال ریفر کردیا گیا۔ اور یہاں سے ہی ایک تکلیف دہ سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
یہ کوئی خیالی کہانی نہیں، نہ کسی دور دراز گاؤں کا المیہ ہے اور نہ ہی کسی غیر ترقی یافتہ خطے کی تصویر۔ یہ راولپنڈی جیسے بڑے، حساس اور طبی سہولیات کے مرکز سمجھے جانے والے شہر کی ایک تلخ حقیقت ہے، جہاں دل کے مریضوں کے لیے مخصوص راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دوسرے سرکاری اسپتال تک پہنچنا، مریض کے لواحقین کے لیے ایک اعصاب شکن امتحان بن جاتا ہے۔
یہ امتحان صرف وقت کا نہیں، پیسے کا نہیں بلکہ انسان کی عزتِ نفس، بے بسی اور ریاست پر اعتماد کا امتحان ہوتا ہے، جو اکثر ناکامی پر ختم ہوتا ہے۔ ایک مریض جو اردگرد سے بے خبر ہے، حالت تشویشناک، پورا خاندان شدید اضطراب، خوف اور دعاؤں کے عالم میں کھڑا تھا۔ امیدوں کے چراغ ٹمٹما رہے تھے کہ معجزہ ہوجائے اور مریض آنکھیں کھول دے۔
ڈاکٹرز کی واضح ہدایات کہ مریض کی دوسرے اسپتال منتقلی کے دوران آکسیجن کی سہولت والی ایمبولینس لازمی ہونی چاہیے۔ یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں تھا، نہ ہی کوئی پرتعیش سہولت کی فرمائش تھی، بلکہ یہ ایک زندگی بچانے کی بنیادی شرط تھی۔ ایسے میں سب کی نظریں اسپتال کے باہر موجود ایمبولینسز پر جا ٹھہریں، جو بظاہر مدد کے لیے تیار کھڑی تھیں۔
بظاہر تو یہ ایمبولینسیں مدد کو تیار کھڑی ہوتی ہیں اور ان پر انسانیت کی خدمت کے نعرے درج ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک مافیا ہے، ایک ایسا کاروباری مافیا جو لاشوں کا کاروبار کرتا ہے۔ اور اس مافیا کے ٹھیکیدار آپ کے اقربا کی لاشیں نوچ کھانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں مریض کی ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقلی ریاست یا ادارے کی ذمے داری نہیں سمجھی جاتی۔ یہ ذمے داری مریض کے لواحقین کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے، چاہے مریض کی حالت کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو۔ اسپتال کے باہر کھڑی ایمبولینسز درحقیقت کسی منظم سرکاری نظام کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک غیر اعلانیہ، مگر مضبوط ایمبولینس مافیا کے زیرِ انتظام ہوتی ہیں، جہاں ہر ایمرجنسی ایک کاروباری موقع بن جاتی ہے۔ اور باقاعدہ ایک ٹھیکیداری نظام سے منسلک ہوتی ہیں۔ سونے پہ سہاگہ کہ اس کاروبار کو بھی فلاح کا نام دیا جاتا ہے۔ نہ جانے اسے فلاح کا نام دے کر کہاں کہاں، کیا کیا فائدہ حاصل کیا جاتا ہوگا۔
راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے بینظیر بھٹو اسپتال کا فاصلہ بمشکل دو کلومیٹر بھی نہیں۔ یہ وہ فاصلہ ہے جو ایک عام گاڑی چند منٹوں میں طے کرلیتی ہے۔ گوگل میپس بھی اس فاصلے کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر جب بات ایمبولینس کی آئی تو یہ دو کلومیٹر اچانک ایک تگڑی ریٹ لسٹ میں تبدیل ہوگئے۔ اور یہاں سے بارگیننگ کا ایک تکلیف دہ سفر ہوتا ہے۔ دو کلو میٹر کے لیے زیادہ سے زیادہ کتنی رقم کی ادائیگی مناسب ہو گی؟ ہر ذی شعور کا جواب ہوگا کہ 1 ہزار سے 2 ہزار تک؟ لیکن یہاں مافیا کے کارندے کہیں سات ہزار کہتے نظر آئے اور کہیں چھ ہزار، یعنی گاہک کو گھیرنے کی باقاعدہ پلاننگ۔
یہاں وہ لمحہ آتا ہے جہاں انسان کو اپنی عزتِ نفس کو ایک طرف رکھ کر بارگیننگ کرنا پڑتی ہے۔ ایک طرف مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، دوسری طرف لواحقین سودے بازی میں الجھے ہوئے۔ آخرکار بڑی مشکل اور طویل بحث کے بعد چار ہزار روپے پر بات طے ہوئی۔ ذرا سوچیے، دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے کےلیے، وہ بھی ایک ایمرجنسی میں، چار ہزار روپے وصول کرنا کس حد تک غیر انسانی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔
بارگیننگ اس لیے بھی کرنا پڑتی ہے کہ جب مریض کو ایمرجنسی میں لایا جاتا ہے تو لواحقین پیسوں کا انتظام کرکے نہیں لا سکتے۔ اچانک آنے والے مریض کے ساتھ لواحقین بھی افراتفری میں ہی آتے ہیں۔ یہ محض پیسوں کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ اس سماجی رویے کی عکاسی کرتا ہے جہاں مجبوری کو کمزوری اور کمزوری کو کمائی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔
ایسے وقت میں جب انسان کا ذہن مفلوج ہوتا ہے، جب دل ہر لمحہ کسی انہونی کے خوف سے دھڑک رہا ہوتا ہے، اس وقت ریٹس پر بحث کرنا کسی ذہنی اذیت سے کم نہیں۔ مگر یہاں یہ اذیت معمول بن چکی ہے، جسے سب نے خاموشی سے قبول کرلیا ہے۔
خیر، بڑی مشکل سے مریض کو بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا، مگر بدقسمتی سے وہاں بھی حالات سازگار نہ ہوسکے۔ کبھی ڈاکٹر دستیاب نہیں، کبھی بیڈ نہیں، کبھی سہولت پوری نہیں۔ یہ سب مسائل ہمارے سرکاری اسپتالوں کی ایک الگ داستان ہیں۔ نتیجتاً فیصلہ ہوا کہ مریض کو ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا جائے، جو نسبتاً بہتر سہولیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
اب ایک بار پھر اسی ایمبولینس والے سے درخواست کی گئی کہ وہ مزید مدد فراہم کرے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ہولی فیملی اسپتال کا مجموعی فاصلہ تقریباً پانچ کلومیٹر بنتا ہے، جو کسی بھی لحاظ سے طویل یا مہنگا سفر نہیں۔ مگر یہ اضافی سفر اضافی کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اور اضافی کمائی بھلا کون چھوڑے گا۔ مریض ایمبولینس میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے اور مافیا کو مزید پیسے کمانے کا موقع بھی مل گیا ہے تو بارگیننگ تو ہوگی، لہٰذا مزید مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو ہزار روپے مزید اضافی طے ہوگئے۔ وہ بھی چاروناچار کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ یوں مجموعی طور پر پانچ کلومیٹر کے سفر کے لیے سو کلو میٹر کی رقم اینٹھنے کا پلان فائنل ہوگیا۔
اس لمحے میں مریض کے ساتھ موجود لواحقین اپنے مریض کی سانسوں کی ڈور برقرار رکھنے کےلیے ہی جہدوجہد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ ایک مافیا کے ساتھ بھی نبرد آزما ہوتے ہیں۔ انہیں ایک طرف تو اپنے مریض کو جلد سے جلد کسی مناسب اسپتال پہنچانے کی فکر ہوتی ہے تو کہیں یہ پریشانی کہ ایمرجنسی میں رقم کا بندوبست کیسے ہوگا۔ اور یہی موقع تو ہمارے مافیاز کے لیے ایک سنہرا کاروباری لمحہ ہے۔ اور اس سے پورا فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے۔
قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ قدرت کے فیصلے انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ تمام تر کوششوں، دعاؤں اور وسائل کے باوجود مریض کا انتقال ہوگیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پورا خاندان ٹوٹ سا گیا۔ آنکھوں میں آنسو، دل میں خلا، ذہن میں بے شمار سوالات۔ مگر زندگی کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ غم کے لمحات میں بھی کچھ عملی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
اب اگلا مرحلہ میت کو احترام کے ساتھ گھر منتقل کرنے کا تھا۔ اور اس احترام کے لیے بھی دوبارہ سے اسی مافیا کے منہ تو لگنا ہی پڑتا ہے لہٰذا آپ جتنا بھی کہیں کہ یہ میت کچھ لمحے پہلے سانس لے رہی تھی اور ہمارے لیے اس کا کیا مقام ہے، اس مافیا نے اس کاروباری موقع کر ہرگز ہاتھوں سے نہیں جانے دینا۔ اور وہ لواحقین جو پہلے مریض کی ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقلی کے لیے ترلے منتیں کر رہے تھے، اب تو ہر حال میں میت کو جلد از جلد گھر منتقل کرنا ہے۔ اور اسی لمحے وہ اس مافیا کو منہ مانگے دام دینے کو تیار ہوجاتے ہیں۔
یہاں بھی ریاست غائب تھی، اور ایمبولینس مافیا پوری طرح موجود۔ ایک بار پھر ریٹس، ایک بار پھر بارگیننگ، ایک بار پھر بے بسی۔ یہ منظر کسی بھی حساس انسان کو اندر سے ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ ایک طرف لواحقین غم سے نڈھال، دوسری طرف سامنے کھڑا شخص میت کو محض ایک ٹرانسپورٹ آئٹم سمجھ کر کرایہ طے کر رہا ہے۔ یہاں نہ انسانیت نظر آتی ہے، نہ اخلاقیات، نہ ہمدردی۔ کسی کے لیے یہ لاش ہے، کسی کے لیے کمائی کا ذریعہ۔
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ فلاحی اداروں کی ایمبولینسز موجود ہیں، ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ فلاحی ادارے قابلِ تحسین خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر ایمرجنسی کے وقت ان تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔ کبھی ایمبولینس دستیاب نہیں، کبھی دیر ہو جاتی ہے، کبھی کسی اور کال پر روانہ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایمرجنسی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کے پاس انتظار کی مہلت نہیں ہوتی۔
یہاں سب سے اہم سوال ریاستی ترجیحات کا ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ماں کی اولاد لاش کی صورت میں باعزت گھر منتقلی کو ترس رہی ہوتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں مسابقت کی ایک دوڑ شروع ہے۔ ٹرانسپورٹ سسٹم ہر صوبے میں شروع کیے جانے کے دعؤوں کے ساتھ، گرین، ریڈ، اورنج، پنک اور نہ جانے کون کون سا ٹرانسپورٹ سسٹم، مکمل سبسڈی کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ اربوں کے اخراجات کے ساتھ۔ لیکن کاش کوئی ایسا منصوبہ بھی آئے کہ ہر سرکاری اسپتال میں تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ، کم از کم پانچ ایمبولینسز ہر وقت تیار ہوں۔
اگر حکومت چاہے تو ایک منظم، مربوط اور مکمل فری ایمبولینس سروس شروع کرسکتی ہے۔ ہر سرکاری اسپتال میں ایمبولینس یونٹ ہو، جہاں مریض کی منتقلی اور میت کی ترسیل ریاست کی ذمے داری ہو۔ واضح نظام ہو، تربیت یافتہ عملہ ہو، شکایات کا مؤثر طریقہ کار ہو۔ یہ سب کچھ ممکن ہے، بس نیت کی ضرورت ہے۔
اگر نئی سروس ممکن نہیں تو کم از کم موجود نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ایمبولینس مافیا کو ریگولیٹ کیا جائے، ریٹس مقرر کیے جائیں، اور اسپتال انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جائے۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے شہریوں کو ان کے کمزور ترین لمحوں میں تنہا نہیں چھوڑتا۔
اربابِ اختیار و صاحبانِ اقتدار سے بس یہی گزارش ہے کہ خدارا انسانی دکھ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیجیے۔ کسی کے پیارے کو اسپتال سے اسپتال اور پھر گھر پہنچانا کوئی کاروبار نہیں، یہ ایک انسانی ذمے داری ہے۔ اگر ہم واقعی فلاحی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں تو اس خواب کی تعبیر ایمبولینس کے دروازے سے شروع ہونی چاہیے، نہ کہ بس اسٹاپ سے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرکاری اسپتال اسپتال منتقل دوسرے اسپتال ایک بار پھر مافیا کے مریض کے جاتی ہے مریض کی جاتا ہے مریض کو ہوتی ہے ہوتا ہے ایک طرف کے ساتھ کی ایک کے لیے اور اس
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔