سال 2026 کی پہلی انسداد پولیو مہم ملک بھر میں کامیابی کے ساتھ جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (نیشنل ای او سی) کے مطابق 2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم چوتھے روز بھی ملک بھر میں کامیابی کے ساتھ جاری رہی اور3 کروڑ 89 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن مکمل کر لی گئی۔ نیشنل ای او سی نے کہا کہ یہ انسداد پولیو مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت منعقد کی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار وائرس کے پھیلاؤ کو مؤثر طور پر روکا جا سکے، ابتدائی تین روز کے دوران ملک بھر میں 3 کروڑ 89 لاکھ سے زائد بچوں کی پولیو ویکسینیشن مکمل کر لی گئی ہے۔ صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں جبکہ سندھ میں 86 لاکھ 14 ہزار سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے، خیبر پختونخوا میں 62 لاکھ 21 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں تقریباً 18 لاکھ 1 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین دی جا چکی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 لاکھ 21 ہزار سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل کی گئی ہے، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 46 ہزار سے زائد اور آزاد جموں و کشمیر میں 6 لاکھ 47 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ نیشنل ای او سی نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ملک کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہزار سے زائد بچوں ویکسینیشن مکمل بچوں کو پولیو بچوں کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔