جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، دو نومولود بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز

اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں دو نومولود بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں خواتین، بچوں اور ایک ڈیوٹی پر موجود طبی اہلکار کی بھی جان گئی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں تین عسکری رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا اور بعض کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب غزہ میں موجود اس کے فوجیوں پر فائرنگ کی گئی، جس میں ایک اسرائیلی ریزرو فوجی شدید زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملے فوری ردعمل کے طور پر کیے گئے۔

غزہ کے شفا اسپتال کے حکام کے مطابق شمالی غزہ کے طفاح علاقے میں ایک عمارت پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے سیزفائر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ زمینی صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ رکی نہیں ہے۔

بدھ کے روز خان یونس کے المواسی علاقے میں ایک خیمے کو نشانہ بنائے جانے سے کم از کم تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ مقامی طبی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک پیرا میڈک بھی شامل تھا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں حماس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی گئی۔
غزہ سٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک حملے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ مجموعی طور پر بدھ کے روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 38 افراد زخمی ہوئے۔

اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود وقفے وقفے سے ہونے والے ان حملوں نے سیزفائر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

غزہ کے صحت حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 556 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کے مطابق اس دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
ادھر رفح بارڈر کراسنگ پر آمد و رفت محدود رہی، جہاں مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ انسانی امداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، تاہم سیزفائر معاہدے کے کئی اہم نکات، جن میں غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے، تاحال تعطل کا شکار ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریومِ یکجہتی کشمیر، افواج پاکستان کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی پاکستانی ہر حال میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا: صدر و وزیراعظم پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی کشمیر منایارہا ہے وفاقی حکومت عوام کی حمایت سے ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہے۔وزیراعظم ٹیکسلا میوزیم کے لئے نمائش اور تحفظ کے آلات کی حوالگی کی تقریب،جاپان کے سفیر کی شرکت پاکستان وسط ایشیا کو تجارت کیلئے اپنی بندرگاہوں کا راستہ فراہم کرسکتا ہے،وزیراعظم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت