کشمیریوں کوخود ارادیت دلانا اقوام عالم کی ذمہ داری ہے، عبدالعلیم
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
“یوم اسلام آباد (نیوزڈیسک)یکجہتی کشمیر”پروفاقی وزیرمواصلات وصدراستحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےپیغام میں کہاکشمیریوں کو انکاحق خودارادیت دینا اقوام عالم کی اولین ذمہ داری ہے،آج پاک فوج،قومی ادارے اور پوری قوم کشمیریوں کےساتھ کھڑے ہیں۔
وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے اپنےپیغام میں کہاپاکستانی قوم کا 5 فروری کوکشمیریوں سے اظہاریکجہتی قومی سوچ کا عکاس ہے،خطہ کشمیرکی تقدیرکافیصلہ کشمیری بہن بھائی اپنے ہاتھوں سےلکھیں گے،غاصب بھارت کےتسلط کونہ پہلےتسلیم کیا اورنہ ہی کبھی کریں گے،کشمیریوں کے حقوق کے لئے مسلسل آواز بلند کرتے چلے آ رہے ہیں
انہوں نے کہا اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق مسئلہ کشمیرکا حل ہی خطےمیں امن کی ضمانت ہے،مودی کی شرپسند اورحریص سوچ نے خطے کو ہمیشہ بد امنی سے دوچار کیا،فتنہ پسند پڑوسی نے کھیل کے میدان میں بھی نفرت اور فساد کا بیج بودیا۔
پاکستان اوربنگلہ دیش نے بھارت کو آئینہ دکھانے کے لئےمیچزکابائیکاٹ کیا،دنیا مودی سرکارکی عاقبت نا اندیشیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے،آج کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرنے اور ان کے لیے دعا گو ہونے کا دن ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :