آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی
پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا
پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم کا شکار کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرنا بھی ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے پاکستان بھر، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر کے دارلحکومتوں میں جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں او ر دیگر پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کو ملانے والے مقامات منگلا، کوہالہ، برار کوٹ، آزاد پتن وغیرہ میں پاکستانی اور کشمیری عوام ایک دوسرے سے اظہار یکجہتی کیلئے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائیں گے۔یو م یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں بیرون ممالک مقیم کشمیر ی ، پاکستانی اور انسانی حقوق اور وقار و عزمت پر یقین رکھنے والے لوگ بھی اہم دارلحکومتوں میں جلوس اور ریلیاں نکال کر مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے تعین بھر پور یکجہتی کا اظہار کریں گے اور بھارت کو باور کرائیں گے کہ اسے ایک دن کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق، حق خود اردیت دیناہی پڑے گا۔کوہالہ اور پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے دیگر اہم مقامات پر انسانی زنجیریں بنائی جائیں گی۔اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں مباحثہ و تقریری مقابلوں کے ساتھ ساتھ مضمون نویسی کے مقابلوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ٹی وی چینلز مقبوضہ جموںوکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی پروگرام نشر کریں گے۔ اخبارات یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت اور مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے خصوصی سپلیمنٹس شائع کریں گے۔ ملک بھر میں ہوائی اڈوں، ریلوے سٹیشنوں اور قومی شاہراہوں سمیت معصوم کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے والے بینرز آویزاں کیے گئے ہیںبھارت نے آج سے تقریبا78 برس پہلے جموںوکشمیر پرتقسیم برصغیر کے فارمولے کے منافی غیر قانونی طور پراپنا تسلط قائم کیا، وہ کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کے لیے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہاہے۔ اس نے بھارتی قبضے کو چیلنج کرنے کی پاداش میں اب تک لاکھوں کشمیری شہید اور ہزاروں لاپتہ کر دیے ہیںلیکن وہ کشمیریوں کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکاہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا نہ صرف ایک اہم فریق ہے بلکہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا ایک بڑا وکیل بھی ہے۔ وہ کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کیلئے اور محکوم کشمیریوں پر وحشیانہ بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کے لیے عالمی سطح پر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس پر کشمیری اسکے مشکور ہیں۔ معروف آزادی پسند قائد سید علی گیلانی کا تخلیق کردہ نعرہ ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے کا نعرہ کشمیریوں کی پہچان بن چکا ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کی بیش بہا قربانیاں رنگ لائیں گی اور مقبوض جموں وکشمیر بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر مملکت خداداد کا حصہ بنے گا۔ان شا اللہ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کو اجاگر کرنے یکجہتی کشمیر کشمیریوں کی جموں وکشمیر پاکستان اور کشمیریوں کے پاکستان ا کشمیر کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔