یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سمیت قومی قیادت نے کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق من مانے حراستی اقدامات اور اجتماعی سزاؤں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ صدر نے یاد دلایا کہ 1989 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے یومِ یکجہتی کشمیر کے باقاعدہ انعقاد کا آغاز کیا تھا، اور آج دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اسی جذبے کے ساتھ کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام غیرقانونی بھارتی قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں، جبکہ میڈیا پر قدغنیں، قیادت کی گرفتاریاں، گھروں کی مسماری اور ڈیجیٹل آزادیوں پر پابندیاں حقیقت کو چھپانے کی دانستہ کوششیں ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ حل طلب تنازع ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ آزاد، غیرجانبدار رائے شماری سے ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدامات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر جبری تسلط مضبوط بنانا تھا، جبکہ بھارتی قابض افواج کے اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور

وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ 5 فروری اہلِ پاکستان اور اہلِ کشمیر کے لازوال رشتے کی علامت ہے۔

پاکستان اور کشمیر کا تعلق مذہبی، ثقافتی اور سماجی بنیادوں پر قائم ہے اور اہلِ پاکستان ہر حال میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے قیامِ پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر لیا تھا، 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، تاہم بھارتی جبر و استبداد کشمیریوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکا۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کے حق میں مضبوط آواز بلند کی جاتی رہے گی اور کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کشمیری عوام کے انہوں نے کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو