اہل کشمیر کو قربانیو ں پر خراج تحسین ‘آزادی ٔ کشمیر پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں، جماعت اسلامی کے تحت کشمیر کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر صدارت بدھ کو ادارہ نور حق میں ہونے والی ’’کشمیر کانفرنس‘‘ نے بھارت کے غاصبانہ تسلط اور بدترین ریاستی جبر و تشدد کے خلاف اہل کشمیر کی جدو جہد آزادی کی مکمل حمایت اور شہدا کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آزادی ٔ کشمیر پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں کیا جائے گا ، حکومت و ریاست کسی بھی قسم کی سودے بازی یا بزدلی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کے حق ِ خودارادیت کے لیے اپنا کردار ادا کرے ، حکومت و ریاست آزادی ٔ کشمیر کے لیے پیش قدمی کرے پوری قوم یک جان اور ایک زبان ہو کر شانہ بشانہ کھڑی ہوگی ، حکومت پاکستان دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کرے ،کانفرنس کے شرکا نے آج جماعت اسلامی کے تحت جیل چورنگی تا مزار قائد ’’یکجہتی کشمیر ریلی ‘‘ کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور اہل کشمیر کے لیے جماعت اسلامی کی جدو جہد اور کوششوں کو سراہا ، منعم ظفر خان نے کہا کہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نا مکمل ایجنڈا ہے ، گزشتہ 45سال سے پاکستان کشمیر پر5 جنگیں لڑ چکا ہے ، کشمیر صرف زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سوا کروڑ انسانوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے ، اہل کشمیر کا پاکستان سے دینی اور نظریاتی تعلق ہے ، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو بحیثیت ریاست مسئلہ کشمیر کی آزادی کے لیے جو کردار ادا کرنا چاہیے تھاوہ ادا نہیں کیا گیا اور آج اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کہ حکومت و ریاست کشمیر ی عوام کو بھارت کے تسلط سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردا ر ادا کرے ، بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا ،اقوام متحدہ کا کردار ہم سب کے سامنے ہے ، کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے ، اب تک لاکھوں لوگ شہید ہو چکے ہیں لیکن اقوام متحدہ اپنی منظور کردہ قرار دادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے ، جنوبی سوڈان ہو یا مشرقی تیمور ان کے مسائل پر اقوام متحدہ فعال ہو جاتا ہے لیکن جب مسئلہ کشمیر کی بات آتی ہے تو وہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا ہے ، پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا اور ایٹمی قوت ہے، آج اگر پاکستان اپنی اس قوت کا احساس کرے اور اقوام متحدہ کی قرارداددوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرے تو بھارت کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کشمیریو ں کو ان کا حق خودارادیت دے ،انہوں نے مزید کہا کہ جب مئی 2025میں پاک بھارت جنگ ہوئی تو پوری پاکستانی قوم حکومت اور مسلح افواج کی پشت پر تھی ، پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی سفارتی وریاستی محاذوں پر بھی اپنا اسی طرح کردار ادا کرے تو پوری پاکستانی قوم اس کی پشت پر ہوگی ، بھارت نے 5اگست 2019کو آرٹیکل 370اور 35A کو معطل کر کے کشمیریوں کی علیحدہ آئینی حیثیت اور تحفظ کو ختم کر دیا، آج پاکستان کو بحیثیت ریاست اور مسلح افواج کو کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے نجات دلانے کے لے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، کشمیر کانفرنس سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز، جے یوآئی سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان، جمعیت علما پاکستان کے سید عقیل انجم قادری ، شہری رابطہ کونسل کے نصرت مرزا،کل جماعتی حریت کانفرنس کے چودھری شاہین اقبال ، فلسطین فائونڈیشن کے ڈاکٹر صابر ابو مریم ، عوامی نیشنل پارٹی کے محمد یونس بونیری ، جمعیت علما اسلام کے حافظ احمد علی ، جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ ، فنکشنل علما ومشائخ سندھ کے صدر مولانا محمد امین انصاری ، شعبہ علماو مشائخ پاکستان ملی مسلم لیگ کے ثقلین اسحا ق، پاکستان ملی مسلم لیگ ضلع شرقی کے جنرل سیکرٹری حافظ عبد القیوم ، جمعیت علما پاکستان کے خلیل احمد نورانی ، تحفظ حقوق تاجران کے مبین انصاری ، اتحاد ہزارہ تحریک کے سردار عتیق الرحمن ، اسلامی جمہوری اتحاد کے علامہ مرتضیٰ خان رحمانی ، محب کونسل کے اسلم خان فاروقی ، جمعیت علما اسلام کراچی کے امیر عبدالسلام شامزئی ، جمعیت علما اسلام کراچی کے سیکرٹری اطلاعات مفتی محمد عابد ، مرکزی جمعیت الحدیث چیئر مین سیاسی امور عبد الوہاب و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ادارہ نورحق میں کشمیر کانفرنس کے شرکا سے صدارتی خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کشمیر کانفرنس جماعت اسلامی اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر جمعیت علما اہل کشمیر کشمیر کا کشمیر کے کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم