کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ برہان وانی کی شہادت نے کشمیر کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی، اب نوجوانوں نے اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے وہی ہمارے آنے والے لیڈر ہیں اور لیڈر صرف سیاسی نہیں ہوتا آپ جس شعبہ میں ہوں وہاں اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے خدمات سرانجام دیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی و سابق چیئرمین کشمیر کمیٹی پاکستان سید فخر امام شاہ نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ ہر محاظ پر مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے اور دبانے کی کوشش کی ہے۔ کشمیر تاریخی، جغرافیائی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔ اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کرائے مودی سرکار بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 تبدیل نہیں کرسکتی، جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اقوامِ متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں۔ عالمی طاقتوں کا مسئلہ کشمیر پر دوہرا معیار ہے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتیں کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں کشمیر سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔

 کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید فخر امام شاہ نے کہا کہ حالیہ مئی میں ہم نے ایک مرتبہ پھر بھارت کو پسپا کیا، ہمارے پائلٹ دنیا کے نمبر ون پائلٹ ہیں جنہوں نے بھارت کے سات جہاز گرائے، اسی طرح 1965 کی جنگ میں ہم نے انڈیا کے 125 جہاز گرائے تھے، ہم نے ثابت کیا کہ ہمارا دفاع مظبوط ہے۔ پاکستان ساتویں ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے مگر اقتصادی اور معاشی طور پر ہمارا نمبر 50 واں ہے، اب ہمیں دنیا میں اپنا مقام بنانے کے لیے خود کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔ سابق چیئرمین کشمیر کمیٹی و سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام شاہ نے مزید کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے کشمیر کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی، اب نوجوانوں نے اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے، وہی ہمارے آنے والے لیڈر ہیں اور لیڈر صرف سیاسی نہیں ہوتا آپ جس شعبہ میں ہوں وہاں اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے خدمات سرانجام دیں۔

سابق ای ڈی او ایجوکیشن صدر نظریہ پاکستان فورم ملتان پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نا مکمل ہے، پاکستان کے نام میں لفظ ک کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا اور شہہ رگ کے بغیر کوئی وجود مکمل نہیں ہوسکتا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین دربار عالیہ حضرت داو د جہانیاں ملتان مخدوم شعیب اکمل ہاشمی اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ کشمیریوں کو ہر صورت استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ کشمیر مسئلہ پر پاک بھارت تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ بھارت خود اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر لیکر گیا انڈیا ہمیشہ مذاکرات سے بھاگ گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کشمیر کے

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا