لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام قذافی فائرنگ سے قتل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔
لیبیائی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 53 سالہ سیف الاسلام کی موت کی تصدیق منگل کے روز ان کی سیاسی ٹیم کے سربراہ نے کی۔ سیف الاسلام کو ایک عرصے تک اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ میں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف محمد الحداد ساتھیوں سمیت جاں بحق
ان کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 4 افراد پر مشتمل ایک کمانڈو یونٹ نے مغربی شہر زنتان میں ان کے گھر پر حملہ کر کے انہیں قتل کیا، تاہم حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ دوسری جانب، ان کی بہن نے لیبیائی ٹی وی کو بتایا کہ سیف الاسلام کی موت ملک کی الجزائر سے ملحقہ سرحد کے قریب ہوئی۔
سیف الاسلام قذافی کون تھے؟سیف الاسلام قذافی کو اپنے والد کے بعد لیبیا کی سب سے بااثر اور خوف کی علامت سمجھی جانے والی شخصیت تصور کیا جاتا تھا۔ وہ 1972 میں پیدا ہوئے اور 2000 کے بعد مغربی ممالک کے ساتھ لیبیا کے تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے، جو 2011 میں قذافی حکومت کے خاتمے تک جاری رہا۔
والد کی معزولی اور ہلاکت کے بعد سیف الاسلام پر حکومت مخالف مظاہروں کے سخت کریک ڈاؤن میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے، جس کے بعد انہیں زنتان میں ایک حریف ملیشیا نے تقریباً 6 سال تک قید رکھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت بھی 2011 میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر انہیں مقدمے کا سامنا کرانا چاہتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم سے لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو
2015 میں طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی، تاہم 2 سال بعد مشرقی شہر طبرق میں موجود ملیشیا نے عام معافی کے قانون کے تحت انہیں رہا کر دیا۔
معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا مختلف ملیشیاؤں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں تقسیم ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں موجود ہیں۔
سیف الاسلام نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی کہ وہ اپنے والد سے اقتدار وراثت میں لینا چاہتے تھے، تاہم 2021 میں انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، جو بعد ازاں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Saif ul Islam Gaddafi لیبیا معمر قذافی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لیبیا معمر قذافی معمر قذافی لیبیا کے کے بعد
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔