کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلیے بلوچ طلبہ اور اساتذہ کادورۂ آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔
اس موقع پر طلبہ اور اساتذہ مظفرآباد پہنچے جہاں انہوں نے یادگارِ شہدا پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔ اس دوران انہوں نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
بلوچ طلبہ اور اساتذہ کا کہنا تھا کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر وہ کشمیری بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہر دم ساتھ رہیں گے۔ بلوچ طلبہ نے بھارت کے لیے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط فوج رکھتا ہے اور کشمیر کبھی بھارت کا نہیں ہوسکتا، کشمیر پاکستان کا تھا، ہے اور رہے گا۔ اساتذہ کی جانب سے شہدائے کشمیر کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیںیوم یکجہتی کشمیر، صدر، وزیراعظم و سیاسی قیادت کشمیری حق خودارادیت پر متحد
یوم یکجہتی کشمیر، افواج پاکستان کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل عہد کا اعادہ
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے
اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ طلبہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ خود کشمیر آ کر اس کی حقیقت کو قریب سے جانیں۔ دورے کے دوران بلوچستان کے طلبہ اور اساتذہ نے پاکستان، کشمیر اور افواجِ پاکستان کے حق میں نعرے بھی بلند کیے۔
بلوچ طلبہ کا آزاد کشمیر کا یہ دورہ مسئلہ کشمیر سے ملک بھر کے عوام کی اصولی وابستگی کا ثبوت قرار دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر طلبہ اور اساتذہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند