اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا مشرقی ہمسایہ اور خوارج پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کے راستے میں کانٹا بننا چاہتے ہیں لیکن ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان نے اپنے دشمن کو ذلت آمیز شکست دی، ہمارے مشرقی ہمسایہ اور دیگر خوارج مل کر پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کے راستے میں کانٹا بننا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا ضرور مکمل خاتمہ ہوگا اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کس طرح مزدور وہاں مزدوری کے لیے گئے ہیں، جو ننھے منھے پھول جیسے بچوں اور خواتین کو کس طرح قتل کیا گیا، یہ ایک ایسا الم ناک واقعہ ہے کہ پوری قوم سوگوار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنے پورے عزم کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور وہ دن آئے گا کہ یہ قربانیاں رنگ لائیں گی اور اس ملک سے دہشت گردی کا ہمیشہ خاتمہ ہوگا۔

ایران کشیدگی میں برادرانہ کردار ادا کیا، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ ایران میں جو کشیدگی چل رہی تھی، اس حوالے سے پاکستان نے پورا برادرانہ کردار ادا کیا، میں نے خود، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مختلف اوقات میں ایرانی قیادت سے بالمشافہ ملاقات ہوئی، ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی اور مختلف جگہوں پر ان سے بات چیت کی اور بھائی کے طور پر جتنا کردار ادا کیا جاسکتا ہے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس میں قطر، ترکیہ، مصر، عمان اور سعودی عرب سمیت مسلمان ممالک شامل ہیں اور پوری کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے ایک ایسا راستہ نکل آئے تاکہ خطے میں جو خطرات منڈھلا رہے ہیں وہ ختم ہوجائیں اور خطے میں دیرپاامن قائم ہوجائے۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کا پیغام دیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ 5 فروری یوم یک جہتی کشمیر پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ان کی عظیم تحریکیں، قربانیوں کے ساتھ پشاور سے لے کر کراچی تک مکمل طور پر اظہار یک جہتی کرے گی اور مختلف شہروں میں اپنے اپنے انداز میں کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کی والہانہ وابستگی کا اظہار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ کل آزاد کشمیر جاؤں گا اور پوری قوم کی طرف سے بھرپور یک جہتی کا پیغام دیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مفید ملاقات ہوئی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے بڑی اچھی گفتگو ہوئی، میں نے ان کو جس دن ان کا انتخاب ہوا تھا اسی دن فون کرکے کہا تھا کہ وفاق آپ کے ساتھ پوری طرح تعاون کرے گا چاہے آپ کا تعلق کسی بھی جماعت ہو وہ بعد کی بات ہے اور پہلے پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ پاکستان کے ایک انتہائی اہم، خوب صورت اور ایک ایسے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں جہاں لوگ بڑے عظیم پاکستانی ہیں، دلیر اور بہادر لوگ ہیں اور انہوں نے پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ اسی حوالے سے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ ایک فیصد رکھا تاکہ دہشت گردی کے معاملات آپ سمیٹ سکیں، فرانزک لیب، سی ٹی ڈی، سیف سٹی، پولیس کی تربیت ہے اور ان کو بتایا کہ ان برسوں میں این ایف سی کے تحت آپ کو 800 ارب روپے دیے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہاں اس حوالے سے جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے، ابھی تک وہاں سیف سٹی نہیں بن سکا تو انہوں نے کہا کہ اب مکمل ہوا چاہتا ہے تو میں نے کہا چلو دیرآید درست آید۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ باتیں کیں کچھ ادائیگیوں میں تاخیر ہے تو میں نے فوری طور پر احسن اقبال، وزیرخزانہ اور سیکریٹری خزانہ کے ذمے لگایا کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور جہاں ادائیگیوں میں تاخیر ہے وہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان سے کہا ہمیں آپ دوسرے صوبوں کی طرح اتنی ہی پیارے ہیں اور ان سے اچھی نشست ہوئی ہے اور امید کرنی چاہیے کہ معاملہ آگے بڑھے گا۔

بھارت سے میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ٹی20 ورلڈ کپ کے حوالے سے ہم نے بڑا واضح اسٹینڈ لیا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ ہم نہیں کھیلیں گے کیونکہ پاکستان نے کہا یہ کھیل کا میدان ہے سیاست کا میدان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھیل کے میدان میں سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے، ہم نے بڑا سوچ سمجھ کر اسٹینڈ لیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہونا چاہیے اور یہ بہت مناسب فیصلہ ہے۔

قازقستان کے صدر نے دورے کی دعوت دی ہے

وزیراعظم نے کہا کہ آج قازقستان کے صدر تشریف لائے ہوئے ہیں، ان سے ہماری صبح سے بڑی اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور بڑی گرم جوشی سے انہوں نے ہر فورم پر اپنا مؤقف بیان کیا ہے، پاکستان کے ساتھ بھرپور دوستی اور عزم کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے ایک ارب ڈالر تجارت کا ہدف حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، مجھے انہوں نے تیسری مرتبہ اسی سال قازقستان دورے کی دعوت دی ہے، اس کے نتیجے میں ہم نے ایک ورکنگ گروپ بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 5 سالہ منصوبہ بنائیں گے، جس میں اقتصادی، اسٹریٹجک، تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی اور اے آئی میں وہ بہت کام کر رہے ہیں تو احسن اقبال ہماری ٹیم کے لیڈر ہوں گے وہاں سے نائب وزیراعظم کو سربراہ مقرر کیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مجھے بڑی امید ہے کہ قازقستان کے ساتھ ہماری معاشی تعلقات بڑی تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

ازبکستان کے صدر کل آرہے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کل ازبکستان کے صدر تشریف لا رہے ہیں، میں جب تاشقند گیا تھا وہ بہت پرعزم تھے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے لیے ہارون اختر کو ذمہ داری دی ہے اب دیکھتے ہیں تاشقند میں ہماری ملاقات کے بعد ہارون اختر صاحب نے کتنا کام کیا لیکن مجھے امید ہے ہارون اختر اور ان کی پوری ٹیم نے اس پر بڑی محنت کی ہوگی اور ان کا دورہ پاکستان اور ازبکستان کے برادرانہ اور اقتصادی تعلقات میں بڑا بھرپور ثابت ہوگا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل وزیراعظم شہباز شریف نے کہا شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا ازبکستان کے پاکستان کے خاتمہ ہوگا پوری قوم حوالے سے ہیں اور یک جہتی کے ساتھ کے صدر ہے اور اور ان

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار