غزہ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے‘ اپوزیشن اتحاد
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-08-4
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نام نہاد بورڈ آف غزہ سے اپنی شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے غزہ کے معاملے پر کانفرنس کا اعلامیے جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو نام نہاد “بورڈ آف پیس” سے اپنی شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے، حکومت پاکستان کو امریکی سامراج اور ٹرمپ حکومت کے تناظر میں اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی حمایت کے لیے پارلیمان، قومی اور جمہوری سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کو بحث کا حصہ بنائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر مشتمل ایک ایسے بلاک کی تشکیل کی حمایت کرنی چاہیے جو عالمی سطح پر فلسطین کے لیے آزادی اور انصاف کے مقدمے کی قیادت کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔