غزہ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے، اپوزیشن اتحاد
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
غزہ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے، اپوزیشن اتحاد WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2026 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نام نہاد بورڈ آف غزہ سے اپنی شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے غزہ کے معاملے پر کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو نام نہاد “بورڈ آف پیس” سے اپنی شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے، حکومت پاکستان کو امریکی سامراج اور ٹرمپ حکومت کے تناظر میں اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی حمایت کے لیے پارلیمان، قومی اور جمہوری سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کو بحث کا حصہ بنائے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو گلوبل ساتھ کے ممالک پر مشتمل ایک ایسے بلاک کی تشکیل کی حمایت کرنی چاہیے جو عالمی سطح پر فلسطین کے لیے آزادی اور انصاف کے مقدمے کی قیادت کرے۔اپوزیشن اتحاد نے کہا کہ ایک ایسی خارجہ پالیسی بنائی جائے جو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہو، ہم ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں اور سامراجی طاقتوں کی جانب سے خود مختار ممالک کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ ہم وینزویلا، کیوبا، کولمبیا سمیت لاطینی امریکا اور افریقہ کے دیگر تمام مالک کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں جنہیں امریکی جارحیت کا سامنا ہے۔اپوزیشن نے کہا کہ ہم اس خطے میں جنگ اور تقسیم مسلط کرنے کو مسترد کرتے ہیں جو واشنگٹن کے چین کو گھیرنے اور محدود کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے، ہم ایک ایسی غیر جانب دار خارجہ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں جو علاقائی امن سے وابستہ ہو اور مغرب کی پراکسی بننے سے اجتناب کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور تھائی لینڈ کا ورثہ مشترک،ثقافتی سفارتکاری ہمارے تعلقات کی روح ہے: تھائی لینڈ کے سفیر پاکستان اور تھائی لینڈ کا ورثہ مشترک،ثقافتی سفارتکاری ہمارے تعلقات کی روح ہے: تھائی لینڈ کے سفیر ایک سال میں حکومتی 35بلز کے مقابلے میں 43نجی بلوں کو منظور کیا گیا،پرائیوٹ ممبرز حاوی رہے ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں ،امید ہے کامیاب ہوں گے،ٹرمپ امن کیلئے نواز شریف جیسے لیڈر کی ضرورت،ایرانی سفیر،صدر ن لیگ سے ملاقات مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، وزیر صحت پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے متعلق اسٹیٹ بینک کی وضاحت
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد تھائی لینڈ کرتے ہیں نام نہاد
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ