دہشت گردی صرف طاقت سے نہیں، اس کی جڑیں کاٹ کر ختم کی جاسکتی ہے، حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو صرف عسکری طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے پسِ پردہ موجود اسباب اور محرکات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک ناانصافی، محرومی اور ریاستی ناکامیوں کا ازالہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک امن و استحکام کا قیام ممکن نہیں ہو سکے گا۔
منصورہ میں جماعت اسلامی کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حکومتوں کا عوامی رائے کے بجائے طاقت اور دباؤ کے ذریعے مسلط ہونا سنگین مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ اگر عوام کی مرضی کو نظر انداز کرکے غیر شفاف طریقوں سے اقتدار حاصل کیا جائے گا تو عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے کشمیر اور فلسطین کے معاملات پر حکمرانوں کی خاموشی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بنیادی قومی اور عالمی مسائل ہیں جن پر کمزوری ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کی شمولیت کے بغیر کسی بھی قسم کی ثالثی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین کے معاملے میں ایسے عالمی فورمز کا حصہ بننا غلط ہوگا جو فلسطینیوں کے مؤقف کے برعکس ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی ریاست کے طور پر نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام قائم کرنا تھا جہاں عدل، انصاف اور اللہ کے احکامات کے مطابق طرزِ حکمرانی ہو۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج چند خاندان اقتدار اور وسائل پر قابض ہیں جب کہ عام آدمی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ جماعت اسلامی افراد کے بجائے پورے نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
کراچی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت کا مرکز اور تمام قومیتوں کا شہر ہے، جسے کسی مخصوص لسانی یا خاندانی سیاست کے تحت یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پر مسلط جعلی حکومت سے نجات عوام کا بنیادی حق ہے اور جماعت اسلامی اس مقصد کے لیے عوامی طاقت کے ذریعے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس حوالے سے احتجاجی دھرنا روکنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو محض طاقت کے زور پر دبانے کے بجائے یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ دہشت گردوں کو مقامی سطح پر سہولت کیسے ملتی ہے۔ یہ صورتحال ریاستی اور انتظامی ناکامی کی واضح علامت ہے جب کہ بلوچ اور قبائلی علاقوں کے عوام کو عزت، احترام اور انصاف فراہم کیے بغیر امن ممکن نہیں۔
انہوں نے ملک میں گورننس کی صورتحال کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں نہ نظام چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور نہ ہی عوام کو سہولت دینے میں کامیاب ہو سکی ہیں۔ بلدیاتی نظام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ آئین اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی واضح ہدایت دیتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے برین ڈرین کو بھی ایک بڑا قومی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی ماہرین روزگار اور مواقع نہ ہونے کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے ٹیلنٹ ایکسپورٹ کے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو قابل افراد بیرونِ ملک جانے کے بجائے یہاں خدمات انجام دیں گے۔
نجکاری پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے اداروں کو بدانتظامی اور کرپشن سے تباہ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں فروخت کر کے کامیابی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
آخر میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کو منظم کر کے ایک واضح لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھائے گی تاکہ پاکستان کو قبضہ گروہوں سے نجات دلائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل حافظ نعیم الرحم ن انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے کے بجائے کیا جا
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :