گوگل نے یوٹیوب کے مفت صارفین کے لیے اہم فیچر کی رسائی بند کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل کی زیر انتظام دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن یوٹیوب اپنی مفت سروس استعمال کرنے والے صارفین کو پریمیئم پلان کی جانب راغب کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوٹیوب نے ایک اہم اقدام کے طور پر اپنے مقبول موبائل براؤزر بیک گراؤنڈ پلے بیک فیچر تک مفت صارفین کی رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیچر کافی عرصے سے صارفین میں مقبول رہا ہے، جو موبائل پر ویڈیوز کو پس منظر میں چلانے کی سہولت فراہم کرتا ہے، اگرچہ یہ فیچر گوگل کروم براؤزر میں صرف پریمیئم صارفین کے لیے ہی دستیاب تھا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مگر کچھ مفت صارفین دیگر موبائل براؤزرز جیسے مائیکرو سافٹ ایج، بریو یا سام سنگ انٹرنیٹ کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کر لیتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں متعدد صارفین نے شکایت کی ہے کہ اب یہ فیچر ان کے لیے کام نہیں کر رہا۔
گوگل کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ کمپنی مفت صارفین کی جانب سے موبائل براؤزرز کے ذریعے اس فیچر تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس فیچر کا اصل مقصد صرف پریمیئم صارفین کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے، لیکن کچھ مفت صارفین موبائل براؤزر کے راستے اس کا فائدہ اٹھا رہے تھے، جس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کمپنی نے صارفین سے تنقید کے بعد وضاحت کی کہ یہ کریک ڈاؤن بتدریج نافذ کیا جائے گا اور جلد ہی تمام مفت صارفین کے لیے یہ فیچر غیر فعال ہو جائے گا۔
ماہرین ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ یوٹیوب کی یہ حکمت عملی کمپنی کے ریونیو ماڈل کو مضبوط کرنے کے لیے اہم قدم ہے اور مستقبل میں صارفین کو مزید پریمیئم سہولیات کی جانب راغب کرنے کے لیے اسی نوعیت کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صارفین کے لیے مفت صارفین کی جانب
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔