کراچی میں موبائل چوری کے واقعے میں قتل سے متعلق کیس، ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے کراچی میں موبائل چوری کے واقعے میں قتل سے متعلق کیس میں ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ وقوعہ2011 کا ہے، جس کی ایف آئی آر 2 دن بعد نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی، وقوعہ کے وقت پولیس پہنچی لیکن ایف آئی آر دو دن بعد درج کی گئی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ نے 2022ء سے نان نفقہ ادا نہیں کیا، 3 برسوں سے آپ نے اپنے بچوں کو ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔
وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں موبائل چوری کا ذکر تک نہیں، مقتولین کی جانب سے بعد میں موبائل چوری کا رنگ دیا گیا، میں کچھ اہم تفصیلات پڑھنا چاہوں گا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ آپ تفصیل سے پڑھیں، ہم سن رہے ہیں، سزائے موت کا معاملہ ہے، ناحق سزا ہوگئی تو روز قیامت وکیل صاحب ذمے دار ہوں گے، آپ کیا چاہتے ہیں، بریت یا عمر قید، کیا گواہان سے شناخت پریڈ کرائی گئی۔
سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں موبائل چوری سزائے موت نے کہا
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔