Jasarat News:
2026-07-24@08:07:40 GMT

فلسطین: جنگ بندی کے نام پر جنگ

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-03-2
فلسطین کے محصور ساحلی علاقے غزہ میں اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جس سفاکانہ دہشت گردی کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں ستر ہزار سے زاید معصوم اور بے گناہ فلسطینی شہادت سے ہمکنار ہوئے 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے امن معاہدے کے باوجود ہنوز یہاں اسرائیل کی بمباری جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قطر، ترکیے اور مصر کی ثالثی میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں، جنگ بندی کے حوالے سے فریقین میں جن امور پر اتفاق ہوا تھا، ان پر حماس نے تو عمل درآمد کیا مگر معاہدے کے اوّل روز ہی سے اسرائیل نے اپنے طرزِ عمل سے یہ بات ثابت کی کہ وہ کسی طور جنگ بندی پر آمادہ نہیں۔ معاہدے کے تحت حماس نے اسرائیل کے تمام زندہ اور مردہ قیدی رہا کردیے مگر اسرائیل نے غزہ پر نہ صرف یہ کہ بمباری بند نہیں کی بلکہ انسانی امداد پر مشتمل ٹرکوں کی غزہ داخلے پر رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ اسرائیل کی ڈھٹائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امن معاہدے کے چار ماہ بعد رفح کراسنگ کو محدود آمد و رفت کے لیے کھولا گیا ہے۔ اسرائیل کھلے عام معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور بد قسمتی سے معاہدے کے ثالث ممالک اس صورتحال پر کسی بھی قسم کے ردعمل کے اظہار کے لیے تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی ابھی تک جاری ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کر کے 6 بچوں سمیت 31 فلسطینیوں کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کردیا، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنمائوں اور اسلحہ کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملہ کیا ہے، تاہم ان دعوئوں کے حق میں کسی قسم کے ٹھوس شواہد نہیں پیش کیے گئے۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300 سے زاید مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ساری صورتحال کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کسی ملک، بین الاقوامی ادارے، حتیٰ کے معاہدے کے ثالثوں کو بھی اسرائیل کی مذمت کی توفیق نہیں ہوئی، المناکی کی انتہائی یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے آج بھی اسرائیل کی فوجی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد امریکا نے اسرائیل کو 6.

5 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کی فروخت کی منظوری دی ہے، امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر کا فوجی سازو سامان فراہم کیا جائے گا۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے فوجی سازو سامان میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹر اور 1.98 ارب ڈالرکی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔ اسرائیل کو نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر کے پاور پیکس اور لاجسٹک سپورٹ سمیت دیگر فوجی سازو سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔ امریکا کے اس طرز عمل سے جنگ بندی کے معاہدے کا مستقل کیا ہوگا، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے جس کا آغاز جنوری سے ہوچکا ہے پر اس عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ غزہ کو اسلحے کے پاک کرکے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کردیا جائے گا، سوال یہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت کی عسکری مدد کے ساتھ معاہدے کے صرف ایک ہی فریق کو غیر مسلح کرنے کا کیا قانونی اور اخلاقی جواز ہے؟۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو جس قسم کے ہتھیار، ٹینکس اور جنگی گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں وہ اس امر کی حقیقت کا کھلا اظہار ہے کہ امریکی صدر یکطرفہ طور صرف حماس کو بے دست وپا کرنے کے خواہاں ہیں، غزہ میں امن اور بیس آف بورڈ محض دکھاوا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے کی کوشش ہے، اس طرز عمل کے ساتھ غزہ میں کسی طور امن قائم نہیں ہوسکتا۔ خطے میں امن کے قیام کا واحد راستہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنا ہے مگر امریکی صدر اس پر آمادہ نہیں۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم کا یہ کہنا بجا ہے کہ معاہدے کے باوجود حملے، امن معاہدے کے ثالثوں، اسرائیل کے ضامنوں اور غزہ بورڈ آف پیس میں شامل تمام فریقین کی توہین ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ثالثی ممالک امریکا کے دباؤ سے باہر نکلیں اور کھل کر اس منافقت اور دوہرے معیار کا پردہ چاک کریں اور ٹرمپ پر دو ٹوک انداز میں یہ واضح کریں کہ غزہ میں اگر وہ حقیقی امن کے قیام کے خواہاں ہیں تو انہیں اسرائیل کو فراہم کی جانے والی عسکری امداد اور فوجی سازو سامان کی ترسیل فوری طور پر روکنی ہوگی، ثالث ممالک کو امریکا پر یہ بات بھی واضح کرنی چاہیے کہ اس کے اس دوہرے معیار کی وجہ سے ثالثوں کے کردار پر بھی انگلی اٹھ رہی ہے ایسی صورتحال میں اگر جنگ بندی کا معاہدہ سبوتاژ ہوا تو وہ کسی طور امریکا کی تائید و حمایت نہیں کریں گے اور فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت سے تحفظ فراہم کرنے کے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ اگر اس نوع کے اقدامات نہ کیے گئے تو امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کا نفاذ کسی طور ممکن نہیں ہوسکے گا۔

اداریہ سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا کی جانب سے ا فوجی سازو سامان امن معاہدے کے جنگ بندی کے امریکی صدر اسرائیل نے اسرائیل کی اسرائیل کو سے اسرائیل فراہم کی ہے کہ اس یہ ہے کہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم