فلسطین: جنگ بندی کے نام پر جنگ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-03-2
فلسطین کے محصور ساحلی علاقے غزہ میں اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جس سفاکانہ دہشت گردی کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں ستر ہزار سے زاید معصوم اور بے گناہ فلسطینی شہادت سے ہمکنار ہوئے 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے امن معاہدے کے باوجود ہنوز یہاں اسرائیل کی بمباری جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قطر، ترکیے اور مصر کی ثالثی میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں، جنگ بندی کے حوالے سے فریقین میں جن امور پر اتفاق ہوا تھا، ان پر حماس نے تو عمل درآمد کیا مگر معاہدے کے اوّل روز ہی سے اسرائیل نے اپنے طرزِ عمل سے یہ بات ثابت کی کہ وہ کسی طور جنگ بندی پر آمادہ نہیں۔ معاہدے کے تحت حماس نے اسرائیل کے تمام زندہ اور مردہ قیدی رہا کردیے مگر اسرائیل نے غزہ پر نہ صرف یہ کہ بمباری بند نہیں کی بلکہ انسانی امداد پر مشتمل ٹرکوں کی غزہ داخلے پر رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ اسرائیل کی ڈھٹائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امن معاہدے کے چار ماہ بعد رفح کراسنگ کو محدود آمد و رفت کے لیے کھولا گیا ہے۔ اسرائیل کھلے عام معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور بد قسمتی سے معاہدے کے ثالث ممالک اس صورتحال پر کسی بھی قسم کے ردعمل کے اظہار کے لیے تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی ابھی تک جاری ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کر کے 6 بچوں سمیت 31 فلسطینیوں کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کردیا، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنمائوں اور اسلحہ کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملہ کیا ہے، تاہم ان دعوئوں کے حق میں کسی قسم کے ٹھوس شواہد نہیں پیش کیے گئے۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300 سے زاید مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ساری صورتحال کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کسی ملک، بین الاقوامی ادارے، حتیٰ کے معاہدے کے ثالثوں کو بھی اسرائیل کی مذمت کی توفیق نہیں ہوئی، المناکی کی انتہائی یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے آج بھی اسرائیل کی فوجی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد امریکا نے اسرائیل کو 6.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا کی جانب سے ا فوجی سازو سامان امن معاہدے کے جنگ بندی کے امریکی صدر اسرائیل نے اسرائیل کی اسرائیل کو سے اسرائیل فراہم کی ہے کہ اس یہ ہے کہ
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔