عالمی منظر نامہ، مذاکرات کی نازک بساط
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان ترکیہ میں بالواسطہ مذاکرات شروع ہونے کی اطلاعات خاصی حوصلہ افزا ہیں۔ دوسری جانب امریکا کا بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔ باہمی ٹیرف 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد تک لے جائے گا۔
مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ روس یوکرین جنگ بندی پر اچھی خبر آنے کی توقع ہے۔
امریکا کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات شروع ہونے کی خبرایک ایسے عالمی اور علاقائی تناظر کی عکاسی ہے جس میں طاقت، دباؤ، مفادات اور بقا کی سیاست ایک دوسرے میں گتھی ہوئی نظر آتی ہے۔
حالات کی سنگینی، خطے میں جاری جنگوں اور عالمی معیشت پر بڑھتے دباؤ نے دونوں فریقوں کو ایک بار پھر بات چیت کی میز کی طرف آنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایران محدود سفارتی راستے اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
ایران کی معیشت طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، تیل کی برآمدات محدود ہیں، مالیاتی نظام عالمی منڈی سے کٹا ہوا ہے اور مہنگائی و بے روزگاری نے عام شہری کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے میں ایرانی قیادت کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ مکمل طور پر تصادم کی پالیسی پر قائم رہے۔
ایران نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ دھمکیوں، غیر معقول مطالبات اور دباؤ سے پاک ماحول میں ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان دراصل امریکا کے اس ماضی کی طرف اشارہ ہے جب جوہری معاہدے کے باوجود یکطرفہ طور پر اس سے دستبرداری اختیار کی گئی اور ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
یہی تجربہ ایران کو امریکا کے کسی بھی وعدے پر مکمل اعتماد سے روکتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر ترکیہ میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو یہ ایک محتاط مگر اہم قدم ہے، کیونکہ یہ براہِ راست مذاکرات کے بجائے ایک محفوظ سفارتی راستہ فراہم کرتا ہے جس میں فریقین اپنی پوزیشن واضح کر سکتے ہیں۔
امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی تنظیموں کی حمایت کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، جب کہ ایران انھیں اپنی دفاعی ضرورت اور خطے میں طاقت کے توازن کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے۔
ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضمانتیں چاہتا ہے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام اور مزاحمتی تنظیموں سے دستبرداری کو ناممکن قرار دینا، اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ایران اپنی بنیادی دفاعی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے اس کے بدلے میں معاشی ریلیف کی پیشکش ہی کیوں نہ ہو۔
یہی سخت مؤقف مذاکرات کو مشکل بناتا ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا بھی اب یہ سمجھنے لگا ہے کہ ایران کو مکمل طور پر جھکانا ممکن نہیں۔امریکا اس وقت بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف ہے۔
یوکرین اور روس کی جنگ نے مغرب کو معاشی اور عسکری طور پر تھکا دیا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جب کہ چین کے ساتھ معاشی اور ٹیکنالوجیکل مقابلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایسے میں امریکا کے لیے ایران کے ساتھ ایک اور مکمل محاذ کھولنا نہایت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کا یہ اندازہ کہ امریکا کا ایران پر فوری فوجی حملہ رواں ہفتے متوقع نہیں، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فی الحال واشنگٹن عسکری تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
ایران کے خلاف کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور خطے میں موجود امریکی اتحادی بھی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا یہ کہنا کہ اگر امریکا نے جنگ شروع کی تو یہ علاقائی جنگ بن جائے گی، دراصل ایک واضح انتباہ ہے۔ ایران کے پاس نہ صرف اپنی فوجی صلاحیت ہے بلکہ خطے میں اس کے اتحادی بھی موجود ہیں جو کسی بھی تصادم کی صورت میں متحرک ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا اس بیان پر ردعمل، جس میں انھوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ ہو جائے گا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو نتائج سامنے آ جائیں گے، امریکی حکمت عملی کی اسی دوہری نوعیت کو ظاہر کرتا ہے جس میں مذاکرات اور طاقت کا مظاہرہ بیک وقت جاری رہتا ہے۔
اسی دوران امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے کا اعلان عالمی سیاست میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے بھارت پر لگائے گئے ٹیرف میں کمی اور روسی تیل کی خریداری کم کرنے پر اتفاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا معاشی تعلقات کو جغرافیائی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
بھارت کے ساتھ اس معاہدے کے ذریعے امریکا نہ صرف اپنی معیشت کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے بلکہ روس پر دباؤ بڑھانے اور ایشیا میں اپنی اسٹرٹیجک پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
یورپ کے بارے میں امریکی تنقید کہ وہ بھارت سے تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنی ہی جنگ کو فنڈ کر رہا ہے، مغربی اتحاد کے اندر موجود اختلافات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے کام کر رہا ہے اور ایران کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، اس امر کو واضح کرتا ہے کہ امریکا عالمی سطح پر تنازعات کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے، مگر یہ کوششیں اکثر تضادات کا شکار نظر آتی ہیں۔
ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف بحری بیڑے روانہ کیے جاتے ہیں اور پابندیوں کا دباؤ برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی تضاد ایران کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، جب کہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے اسٹرٹیجک اور معاشی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں پاکستان کو توانائی، تجارت اور سلامتی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک متوازن اور دور اندیش سفارتی پالیسی اپنائے جو خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے۔
عالمی منظرنامہ اس وقت شدید غیر یقینی کا شکار ہے۔ طاقت کی سیاست، معاشی دباؤ اور سفارتی جوڑ توڑ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اگر کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہوگا۔
پابندیوں میں نرمی سے عالمی توانائی منڈی میں استحکام آ سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، تاہم اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا اور دنیا ایک اور بڑے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات میں طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔
ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اگر حقیقت پسندانہ اور متوازن فیصلے کیے جائیں تو ایک ایسا راستہ نکالا جا سکتا ہے جو نہ صرف تمام فریقین کے اپنے مفادات بلکہ خطے اور دنیا کے امن کے لیے بھی مفید ہو۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کو تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی عالمی صف بندیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ان تبدیلیوں کا محور اور مرکز پاکستان کے ارد گرد ہے۔
چین اور امریکا دنیا کے سب سے بڑے کاروباری حریف ہیں‘ان کے ساتھ ساتھ یورپی یونین ‘بھارت اور برطانیہ بھی طاقتور کاروباری اکائیاں ہیں۔یہ کاروباری ممالک اور اتحاد اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔
ان کے باہمی تعلقات خوشگوار بھی ہیں اور کشیدہ بھی ‘اس کی وجہ کاروباری مفادات ہی ہیں۔چین اپنے انداز میں اپنی منڈیوں کو محفوظ بنانے کی کوششیں کر رہا ہے جب کہ امریکا ‘یورپی یونین ‘انڈیا اور برطانیہ اپنی الگ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ایک دوسرے کے ساتھ معاملات طے ہو رہے ہیں اور کاروبار کا حجم مقرر کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف روس بھی ایک بڑی معیشت ہے لیکن وہ پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یوکرین کی جنگ میں بھی الجھا ہوا ہے۔
وہ بھی اپنے معاملات کو درست کرنے میں پوری جدوجہد کر رہا ہے۔ادھر ایرا ن اور امریکا کے درمیان صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔پاکستان اس صف بندی کے سینٹر میں موجود ہے۔پاکستان کو اپنی اس پوزیشن کو مدنظر رکھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پالیسی تشکیل دینی چاہیے
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش ایران اور امریکا کے درمیان اور خطے میں ہو سکتے ہیں پاکستان کے کہ امریکا کر رہا ہے ایران کے اور روس کے ساتھ کسی بھی کرتا ہے سکتا ہے کے لیے ہے اور کی طرف
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔