دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان استنبول میں منعقد ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ پاکستان کی نمائندگی کے حوالے سے فیصلہ ایک یا دو دن کے اندر متوقع ہے، جبکہ مذاکرات میں شرکت کے لیے بیک ڈور کوششیں پاکستان اور ترکی کی جانب سے کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات رواں ہفتے استنبول، ترکی میں ہو رہے ہیں اور اس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری اور علاقائی امور پر بات چیت کو از سر نو آگے بڑھانا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات جمعے کو دوبارہ شروع ہوں گے، جو مئی 2023 سے تعطل کا شکار تھے۔

علاقائی عہدیداروں نے بتایا کہ مذاکرات میں سعودی عرب، قطر، عمان، پاکستان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات سے متعلق نہ پُرامید ہے اور نہ ہی مایوس، تاہم یہ بات چیت ظاہر کرے گی کہ آیا امریکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد کیا جائے گا، اور استنبول میں مذاکرات میں پاکستان کی موجودگی علاقائی اور عالمی امن کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

ایرانی ذرائع نے واضح کیا کہ دفاعی تیاریوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور ایران ہر طرح کی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مذاکرات میں اور ایران کے لیے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا