آئی سی سی کے فیصلوں کی وجہ سے کرکٹ میں بڑھتی ہوئی تقسیم پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی تشویش
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (پی سی بی)نے پاکستان کی طرف سے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے عالمی کرکٹ پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس میں بنگلہ دیش کے لیے مالی نقصانات بھی شامل ہیں۔
ڈھاکا کی روزنامہ پروتھوم الو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ابھی تک بائیکاٹ کے پیچھے وجوہات کی باضابطہ وضاحت نہیں کی ہے۔ تاہم، بنگلہ دیشی حکام کا ماننا ہے کہ اس کا اثر صرف دونوں حریفوں تک محدود نہیں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان فیصلے سے یوٹرن نہیں لے گا، وزیراطلاعات عطا تارڑ کا انڈیا سے میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر تبصرہ
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ایک سینیئر اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ بورڈ خاص طور پر ممکنہ آمدنی کے نقصان سے فکر مند ہے، کیونکہ بی سی بی کی آمدنی کا بڑا حصہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی سے حاصل ہونے والے منافع پر منحصر ہے۔
اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ مقابلوں میں کھیل کا تناسب پاکستان کے خلاف رہا ہے اور گزشتہ ایشیا کپ میں پاکستان نے بھارت کے خلاف تینوں میچز ہارے، البتہ ان مقابلوں کی تجارتی اہمیت عالمی کرکٹ میں بے مثال ہے۔
پاکستانی حکومت کے اعلان کے بعد آئی سی سی نے خبردار کیا کہ میچ کھیلنے سے انکار سے عالمی کرکٹ ‘ایکو سسٹم’ متاثر ہوگا، جس میں سب سے زیادہ جھٹکا اقتصادی ہو گا۔ بی سی بی اہلکار اس تشخیص سے اتفاق کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کا مالی نقصان متوقع
ایک سینیئر بی سی بی ڈائریکٹر نے بتایا: ‘اگر بھارت پاکستان میچ نہ ہوا، تو پوری کرکٹ دنیا مالی نقصان کا سامنا کرے گی۔ ہمارا آئی سی سی منافع بھی کم ہو جائے گا۔ پاکستان شاید بھارتی کرکٹ کو ایک مضبوط پیغام بھیجنا چاہ رہا ہے اور اس کی بالادستی کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے یہ اقدام ان کے لیے سمجھ آتا ہے۔’
رپورٹس کے مطابق بھارت اور پاکستان کے سیاسی تعلقات کو اس فیصلے کے پیچھے اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پہلے بھی بنگلہ دیش کو شامل کیے بغیر میزبان انتظامات کی مخالفت کی تھی اور وینیو تبدیل کرنے کے تجویزات کو رد کیا تھا۔ آئی سی سی اجلاسوں میں انہوں نے بنگلہ دیش کے حق میں بات کی، جس کی وجہ سے کچھ مبصرین پاکستان کے اس موقف کو بنگلہ دیش کے لیے حمایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
بی سی بی کے ایک ڈائریکٹر نے کہا کہ بہت سے لوگ اس اقدام کو بھارت کے لیے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے اعتراضات کو مکمل طور پر حل کیے بغیر فیصلے کیے۔ ‘کسی نہ کسی وقت ردعمل ناگزیر تھا۔ پاکستان کا اعلان ایک اہم پیش رفت ہے۔’
تاہم، بی سی بی کے اندر مایوسی بھی واضح ہے۔ بنگلہ دیش پہلے ہی اس سال کے ٹی20 ورلڈ کپ سے غیر موجودگی، ڈومیسٹک کرکٹ کی کم ہوتی آمدنی، اور اسپانسرشپ و براڈکاسٹ رائٹس سے محدود آمدنی کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی کرکٹ کی قیادت انصاف اور برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے، شاہد آفریدی کی آئی سی سی پر تنقید
ایک اور بی سی بی اہلکار نے کہا: ‘یہ آئی سی سی کے بنیادی مالی وسائل پر اثر ڈالے گا، اور ہم اس نظام کے حصہ دار ہیں۔ چھوٹے ممالک معمولی گرانٹس پر چل سکتے ہیں، لیکن ہمارے انفراسٹرکچر اور وعدوں کے پیش نظر آئی سی سی کی کم آمدنی ہمیں حقیقی دباؤ میں ڈالے گی۔’
اقتصادی اثرات کے علاوہ، اہلکار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ابھرتے ہوئے کرکٹ ڈپلومیسی کے تنازعات مستقبل کے دوروں اور ٹورنامنٹس، بشمول ایشیا کپ، پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
تاہم غیر یقینی صورتحال کے باوجود، بی سی بی کے اراکین محتاط امید رکھتے ہیں۔ ایک بورڈ ڈائریکٹر نے کہا: ‘مذاکرات ہمیشہ ممکن ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیسے حالات سامنے آتے ہیں۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی انڈیا بنگلہ دیش کرکٹ کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بنگلہ دیش کرکٹ کرکٹ بنگلہ دیش کرکٹ بنگلہ دیش کے عالمی کرکٹ پاکستان کے کرکٹ بورڈ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔