امیر العظیم کا مزار قائد پر خطاب: کشمیری مظلومیت پر پاکستان کے حکمرانوں کی خاموشی پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سکریٹری امیر العظیم نے مزار قائد پر یکجہتی کشمیر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی نے ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، چاہے وہ کشمیری ہوں یا فلسطینی۔
امیر العظیم نے کہا کہ کشمیر میں کئی نسلیں گزر گئی ہیں لیکن شہداء کی قطاریں ختم نہیں ہو سکیں۔ ظلم و جبر کے باوجود نوجوان جدوجہد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور کشمیری مائیں اپنے بچوں کے ساتھ احتجاج کے لیے گھروں سے نکلتی ہیں، حالانکہ انہیں اپنے گھر اور جان کا خطرہ ہوتا ہے۔
انہوں نے برہان الدین وانی کی قیادت میں کشمیری تحریک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب بھی جدوجہد تیز ہوئی، اسلام آباد سے کشمیری جھنڈے ہٹائے گئے،حکمرانوں میں غیرت ہوتی تو وہ کشمیر کا مقدمہ لڑتے، لیکن آج تک خاموش ہیں۔
امیر العظیم نے بھارتی اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے کشمیری عوام کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، لیکن پاکستانی حکمرانوں نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا، دنیا بھر کے کشمیریوں کو مظلومیت کے باوجود مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور اسلامی تحریکیں کبھی کامیابی سے نہیں ہٹیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی تحریکیں جیسے البدر، الشمس، حزب المجاہدین اور حماس نے ثابت کیا کہ اپنی مرضی سے جینا اور مرنا ہی حقیقی آزادی ہے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک بھی اسی اصول پر قائم رہے گی۔
امیر العظیم نے زور دیا کہ کشمیر اور دیگر مظلوم علاقوں میں جدوجہد جاری رہے گی، اور کوئی بھی طاقت انہیں دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر العظیم نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔