وفاقی محتسب نے کنوارے ہونے کی بنیاد پر رہائشی سہولت سے محروم کرنا غیرقانونی قراردیدیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
وفاقی محتسب نے کنوارے ہونے کی بنیاد پر رہائشی سہولت سے محروم کرنا غیرقانونی قراردیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے والی وفاقی محتسب (فوسپاہ)نے کنوارے مردوں اور خواتین کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے سے متعلق تمام قوانین کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا۔وفاقی محتسب نے پاکستان کے کرایہ داری قوانین سے متعلق تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیچلرز مردوں اور خواتین کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی کسی بھی قسم کی پالیسی یا روایت غیرقانونی، امتیازی سلوک پر مبنی اور ابتدا ہی سے کالعدم ہے۔
یہ فیصلہ اسلام آباد میں واقع ایک نجی رہائشی عمارت کی انتظامیہ کے خلاف ثنا ہمایوں خان نامی خاتون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔درخواست گزار نے شکایت میں الزام عائد کیا تھا رہائشی عمارت کی انتظامیہ نے انہیں مسلسل ہراساں کیا، دبا ڈالا اور امتیازی رویہ اختیار کیا۔اپنی بہن کے ساتھ پرامن طور پر رہائش اور کرایہ داری کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود انہیں بار بار اس بنیاد پر نشانہ بنایا گیا کہ یہاں کنوارے نہیں رہ سکتے۔فوسپاہ نے اس الزام کا بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا کہ زبردستی انخلا پر مجبور کرنے کے لیے بجلی اور پانی منقطع کیا گیا اور بغیر کسی قانونی اختیار کے صنفی تعصبات پر مبنی غیر تحریری پالیسیوں کا نفاذ کیا گیا۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد انفرادی شکایت کا معاملہ حل ہو گیا، تاہم فوسپاہ نے پاکستان میں کام کرنے والی خواتین اور غیر شادی شدہ پیشہ ور افراد کو درپیش منظم امتیازی سلوک پر توجہ دینا ضروری سمجھا۔فوسپاہ نے کہا کہ ازدواجی حیثیت یا جنس کی بنیاد پر کنوارا ہونا رہائش سے انکار کی کوئی قانونی وجہ نہیں بن سکتی۔وفاقی محتسب نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے طریقہ کار مساوات، انسانی وقار اور رہائش کی آزادی جیسے بنیادی آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔فوسپاہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نقل و حرکت کوئی مراعات نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے، جن کے روزگار کے مواقع عموما بڑے شہروں تک محدود ہوتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی وحدت، ترقی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ بلوچستان پاکستان کی وحدت، ترقی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ بلوچستان نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار کی ازبک صدرسے ملاقات پاک ،اردن 10ویں مشترکہ وزارتی کمیشن میں 16شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس ملک بھرمیں لاپتا افراد کے کیسز کی تعداد 10ہزار 806تک پہنچ گئی سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں حب الوطنی کی گونجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رہائشی سہولت سے محروم وفاقی محتسب نے بنیاد پر
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔