پنجاب عالمی منڈی میں آلو ایکسپورٹ کرنے والا صوبہ بننے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پنجاب عالمی منڈی میں آلو کی ایکسپورٹ کرنے والا صوبہ بننے کے قریب ہے جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب میں آلو کی پیداوار کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداورہوئی ہے، پنجاب حکومت اور قازقستان کے درمیان زرعی اشتراک کی عملی کاوشیں جاری ہیں۔
وزیر اعلی مریم نواز شریف نے آلو کی ریکارڈ پیداوار ضائع ہونے سے بچانے کے لیے وزیراعظم پاکستان سے ایکسپورٹ کی اجازت طلب کرلی۔
پاکستان میں موجود قازقستان کے اعلی سطح وفد اور پنجاب حکومت کے مابین آلو کی برامد کے لئے آج اہم پیش رفت متوقع ہے۔
پنجاب حکومت کے آلو ایکسپورٹ کے لئے موثر اقدامات یقینی بنانے کے وفاقی حکومت سے مسلسل رابطے ہیں، آلو کے نرخ میں استحکام اور کاشتکاروں کو مناسب معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے نئی ایکسپورٹ مارکیٹ تک رسائی کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ آلو کی برآمدات کیلئے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جارہی ہے، قازقستان پہلا قدم جلد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں گے، پنجاب میں آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں نہیں بھاؤ بکنے دیا جائے گا۔
مریم نواز نےکہا کہ اپنے کسان کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑوں گی، کسانوں کو بہتر معاوضہ دلانے کے لیے پنجاب حکومت وفاق کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں کے حصول پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ آلو کی بمپر کراپ کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی کا پیغام لائے گی-
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت مریم نواز میں آلو آلو کی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔