لال قلعہ کار بم دھماکہ معاملے میں الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جاوید صدیقی چار دن کیلئے پولیس ریمانڈ پر
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
کرائم برانچ کے مطابق جاوید احمد صدیقی کو یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں، جعل سازی اور غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کی ساکیت کورٹ نے لال قلعہ کے قریب ہوئے کار بم دھماکے سے جڑے معاملات میں الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جاوید احمد صدیقی کو چار دن کے لئے دہلی پولیس کرائم برانچ کی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی شکایات کے بعد درج دو ایف آئی آرز کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ کرائم برانچ کے مطابق جاوید احمد صدیقی کو یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں، جعل سازی اور غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس سے قبل 16 جنوری کو جاوید صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔
ای ڈی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الفلاح یونیورسٹی نے نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل سے منظوری حاصل ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اس معاملے میں منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت یونیورسٹی کی متعدد جائیدادیں عارضی طور پر ضبط کر لی گئی ہیں۔ جاوید احمد صدیقی کو ای ڈی نے 18 نومبر 2025ء کو گرفتار کیا تھا۔ لال قلعہ بلاسٹ کے بعد سے ہی فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی تفتیشی ایجنسیوں کے نشانے پر تھی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بلاسٹ کیس میں گرفتار تین ڈاکٹروں کا تعلق اسی یونیورسٹی سے تھا، جس کے بعد ادارے کے خلاف جامع جانچ شروع کی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ایک کار میں زور دار دھماکہ ہوا تھا، جس میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔ بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کے ڈرائیور کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ڈاکٹر عمر النبی کے طور پر ہوئی، جو الفلاح یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر ملازمین، جن میں ڈاکٹر مزمل گنائی اور ڈاکٹر شاہین سعید شامل ہیں، کو بھی ایک مبینہ وائٹ کالر دہشت گرد ماڈیول سے وابستگی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
ساکیت کورٹ میں 31 جنوری کو ای ڈی کی چارج شیٹ پر سماعت ہوئی، جہاں ایڈیشنل سیشن جج شیتل چودھری پردھان نے صدیقی کے وکیل کی درخواست پر دستاویزات کے جائزے کے لئے وقت دیتے ہوئے اگلی سماعت 13 فروری مقرر کی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس معاملے کو دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے سنگین زاویوں سے دیکھ رہی ہیں، جبکہ جاوید احمد صدیقی سے پولیس تحویل کے دوران مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جاوید احمد صدیقی کو الفلاح یونیورسٹی میں گرفتار گرفتار کیا لال قلعہ
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔