کرائم برانچ کے مطابق جاوید احمد صدیقی کو یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں، جعل سازی اور غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کی ساکیت کورٹ نے لال قلعہ کے قریب ہوئے کار بم دھماکے سے جڑے معاملات میں الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جاوید احمد صدیقی کو چار دن کے لئے دہلی پولیس کرائم برانچ کی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی شکایات کے بعد درج دو ایف آئی آرز کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ کرائم برانچ کے مطابق جاوید احمد صدیقی کو یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں، جعل سازی اور غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس سے قبل 16 جنوری کو جاوید صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔

ای ڈی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الفلاح یونیورسٹی نے نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل سے منظوری حاصل ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اس معاملے میں منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت یونیورسٹی کی متعدد جائیدادیں عارضی طور پر ضبط کر لی گئی ہیں۔ جاوید احمد صدیقی کو ای ڈی نے 18 نومبر 2025ء کو گرفتار کیا تھا۔ لال قلعہ بلاسٹ کے بعد سے ہی فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی تفتیشی ایجنسیوں کے نشانے پر تھی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بلاسٹ کیس میں گرفتار تین ڈاکٹروں کا تعلق اسی یونیورسٹی سے تھا، جس کے بعد ادارے کے خلاف جامع جانچ شروع کی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ایک کار میں زور دار دھماکہ ہوا تھا، جس میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔ بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کے ڈرائیور کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ڈاکٹر عمر النبی کے طور پر ہوئی، جو الفلاح یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر ملازمین، جن میں ڈاکٹر مزمل گنائی اور ڈاکٹر شاہین سعید شامل ہیں، کو بھی ایک مبینہ وائٹ کالر دہشت گرد ماڈیول سے وابستگی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

ساکیت کورٹ میں 31 جنوری کو ای ڈی کی چارج شیٹ پر سماعت ہوئی، جہاں ایڈیشنل سیشن جج شیتل چودھری پردھان نے صدیقی کے وکیل کی درخواست پر دستاویزات کے جائزے کے لئے وقت دیتے ہوئے اگلی سماعت 13 فروری مقرر کی۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس معاملے کو دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے سنگین زاویوں سے دیکھ رہی ہیں، جبکہ جاوید احمد صدیقی سے پولیس تحویل کے دوران مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جاوید احمد صدیقی کو الفلاح یونیورسٹی میں گرفتار گرفتار کیا لال قلعہ

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد