data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: بسنت تہوار کے باعث لاہور کا رخ کرنے والے مسافروں کے لیے فضائی سفر ایک آزمائش بن گیا جہاں پروازوں کی منسوخی اور طویل تاخیر نے ہزاروں افراد کے سفری منصوبے متاثر کر دئیے۔

ملک بھر میں ایئر لائنز کے انتظامی مسائل کے باعث پروازوں کے شیڈول میں شدید خلل پیدا ہوا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق کل 13 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ 48 دیگر پروازیں مختلف اوقات میں تاخیر کا شکار رہیں جس کے باعث ایئرپورٹس پر افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والا روٹ کراچی سے لاہور رہا جہاں مجموعی طور پر 22 پروازیں شیڈول تھیں۔ ان میں سے چار پروازیں (PF 142، PF 143، PF 144 اور PF 145) منسوخ کر دی گئیں جبکہ آٹھ دیگر پروازیں کئی گھنٹوں کی تاخیر سے روانہ ہوئیں۔ بعض پروازیں دو سے پانچ گھنٹے تاخیر کا شکار رہیں۔فضائی آپریشن میں خلل کے اثرات بین الاقوامی پروازوں تک بھی جا پہنچے۔

لاہور سے دبئی جانے والی پروازیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں جن میں PA 80، PA 410 اور PA 416 شامل ہیں۔ ان پروازوں کو چھ سے گیارہ گھنٹے تک کی طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جس سے بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافر شدید پریشان نظر آئے۔بسنت ویک اینڈ کے دوران لاہور آنے والے مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے باعث ایئر لائن آپریشن پر مزید دباؤ پڑا۔ کئی مسافر مقررہ وقت پر اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے جبکہ بعض نے مجبوری کے تحت اپنے سفری منصوبے منسوخ کر دئیے جس سے بسنت کی خوشیاں ماند پڑ گئیں۔

ایئر لائن حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ روانگی سے قبل اپنی پرواز کی صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تاخیر کا کے باعث

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل