بسنت کے باعث فضائی سفر آزمائش بن گیا:لاہور میں پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار،مسافرپریشان
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: بسنت تہوار کے باعث لاہور کا رخ کرنے والے مسافروں کے لیے فضائی سفر ایک آزمائش بن گیا جہاں پروازوں کی منسوخی اور طویل تاخیر نے ہزاروں افراد کے سفری منصوبے متاثر کر دئیے۔
ملک بھر میں ایئر لائنز کے انتظامی مسائل کے باعث پروازوں کے شیڈول میں شدید خلل پیدا ہوا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق کل 13 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ 48 دیگر پروازیں مختلف اوقات میں تاخیر کا شکار رہیں جس کے باعث ایئرپورٹس پر افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والا روٹ کراچی سے لاہور رہا جہاں مجموعی طور پر 22 پروازیں شیڈول تھیں۔ ان میں سے چار پروازیں (PF 142، PF 143، PF 144 اور PF 145) منسوخ کر دی گئیں جبکہ آٹھ دیگر پروازیں کئی گھنٹوں کی تاخیر سے روانہ ہوئیں۔ بعض پروازیں دو سے پانچ گھنٹے تاخیر کا شکار رہیں۔فضائی آپریشن میں خلل کے اثرات بین الاقوامی پروازوں تک بھی جا پہنچے۔
لاہور سے دبئی جانے والی پروازیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں جن میں PA 80، PA 410 اور PA 416 شامل ہیں۔ ان پروازوں کو چھ سے گیارہ گھنٹے تک کی طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جس سے بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافر شدید پریشان نظر آئے۔بسنت ویک اینڈ کے دوران لاہور آنے والے مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے باعث ایئر لائن آپریشن پر مزید دباؤ پڑا۔ کئی مسافر مقررہ وقت پر اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے جبکہ بعض نے مجبوری کے تحت اپنے سفری منصوبے منسوخ کر دئیے جس سے بسنت کی خوشیاں ماند پڑ گئیں۔
ایئر لائن حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ روانگی سے قبل اپنی پرواز کی صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔