خیبرپختونخوا: دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کرنے اور متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ہے، اس کے لیے سول حکومت، انتظامیہ ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارےایک پیج پر ہیں اور مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔پریس سیکریٹری برائے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعرات کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزرا ، کورکمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے علاوہ اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنےوالے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں شہادت پانے والے عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔صوبائی اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلا ع میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے امن کی بحالی اور نقل مکانی کرنے والوں کی باعزت واپسی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے لیے سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں اور مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں قانون نافذ کرنے سہیل آفریدی فیصلہ کیا اور دیگر کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔