خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کرنے اور متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ہے، اس کے لیے سول حکومت، انتظامیہ ، پاک فوج  اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارےایک پیج پر ہیں اور مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔پریس سیکریٹری برائے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر  سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعرات کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزرا ، کورکمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے علاوہ اعلیٰ سول، فوجی  اور قانون نافذ کرنےوالے  حکام نے شرکت کی۔⁠اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں شہادت پانے والے عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔صوبائی اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلا ع میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے امن کی بحالی اور نقل مکانی کرنے والوں کی باعزت واپسی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے لیے سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں اور مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ⁠‏یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے.

اس کو مشترکہ کوششوں سے ہی جیتا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی، مواصلات، صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی سہولیات اور دیگر خدمات کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے گا۔فورم نے فیصلہ کیا کہ پائیدار استحکام کے لیے جن علاقوں سے عارضی نقل مکانی کی گئی.حکومت اس عمل کے دوران متاثرہ افراد کی مکمل دیکھ بھال، بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی .تاکہ یہ عارضی مشکل مستقبل میں امن، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بن سکے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ امن کی بحالی اور نقل مکانی کرنے والوں کی باعزت واپسی کو حکومت کی اولین ترجیح ہے. صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے تمام تر وسائل بشمول فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو استعمال کرتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں قانون نافذ کرنے سہیل آفریدی فیصلہ کیا اور دیگر کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ