بلوچستان، 216 دہشتگردوں کو ہلاک، 100 سے زائد مشکوک افراد زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی حکام نے کہا کہ حملوں میں 36 عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے 22 جوان جانبحق ہوئے۔ صوبے میں نوشکی کے علاوہ تمام علاقوں اور شاہراہوں پر حالات قابو میں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 31 جنوری 2026 کے حملوں کے بعد 216 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ حملوں میں 36 عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے 22 جوان جانبحق ہوئے۔ صوبے میں نوشکی کے علاوہ تمام علاقوں اور شاہراہوں پر حالات قابو میں ہیں۔ پولیو مہم جاری جبکہ آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات بھی معمول کے مطابق ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے صوبائی وزراء حاجی علی مدد جتک، میر شعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ، پارلیمانی سیکرٹری ولی محمد نورزئی اور حیات خان اچکزئی کے ہمراہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں 31 جنوری 2026 کو دہشتگردوں کے حملوں کو ناکام بنایا گیا، جبکہ نوشکی میں حالات قابو کرنے میں کچھ وقت لگا۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سرچ اینڈ کامبنگ آپریشنز جاری ہیں۔ اس دوران 100 سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیکر اسلحہ، آر پی جی، اینٹی ائیر کرافٹ گنز برآمد کرلی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشتگرد خواتین بھی ہلاک ہوئی ہیں، جبکہ دہشتگردوں نے تین شہری خواتین کو بھی جانبحق کیا، جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر دہشتگردوں کو کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں کے لوگ دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ منسلک ہیں، انہیں بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس بارے میں ریاست کو معلومات فراہم کریں۔ بصورت دیگر ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نوشکی کے علاوہ تمام علاقوں میں معمولات زندگی بحال ہیں۔ آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات بھی شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ نوشکی کے علاوہ صوبے بھر میں انسداد پولیو مہم بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریڈ زون پر دہشتگردوں کے حملے میں جب تک دہشتگرد نے اپنے آپ کو اڑایا نہیں تب تک سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے مقابلہ کیا، جبکہ حملہ پورے ریڈ زون پر کیا گیا تھا، جسے ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی اور کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں فورسز نے کولیٹرل ڈیمج کو کم سے کم کرنے کے لئے احتیاط سے کارروائی کر رہی تھیں، جس کی وجہ سے علاقوں کو کلیئر کرنے میں وقت لگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں پر حملے کرنے والے افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے کہا کہ سپرینٹنڈنٹ نوشکی جیل کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ بلوچستان کے 2 جیلوں پر حملے ہوئے ہیں۔ جیلوں سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ 31 جنوری کو بلوچستان کے 12 مقامات پر حملے تمام زخمیوں کو تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز کے انہوں نے کہا کہ نوشکی کے علاوہ کوئٹہ میں
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔