پاکستان سے میچ ہو یا نہ ہو ہم سری لنکا جائیں گے، بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستان کے بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود کہا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکسگان سے میچ ہو یا نہ ہم کولمبو جائیں گے۔
کرکٹ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ممبئی میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان وریا کمار یادیو نے کہا کہ ہماری ٹیم کولمبو جائے گیا چاہے میچ ہو یا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ذہن بالکل واضح ہے، ہم نے ان کے ساتھ کھیلنے سے منع نہیں کیا، انکار پاکستان کی طرف سے کیا گیا ہے، آئی سی سی نے شیڈول بنایا ہے، بی سی سی آئی(بھارتی کرکٹ بورڈ) اور حکومت نے آئی سی سی سے ہم آہنگی کے ساتھ غیرجانب دار مقام پر کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔
سوریا کمار یادیو نے کہا کہ ہماری ٹکٹیں بک ہوچکی ہیں، ہم جا رہے ہیں بعد میں دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔
بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 7 فروری کو ہو رہا ہے جبکہ روایتی حریف بھارت اور پاکستان کا میچ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول ہے۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے 15 فروری کو بھارت کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ آئی سی سی نے پاکستان سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔
مبصرین کے مطابق روایتی حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان ورلڈ کپ کا میچ نہ ہونے کی صورت میں آئی سی سی اور میزبان کو بڑا مالی خسارہ ہوسکتا ہے، اس لیے آئی سی سی کو پریشانی کا سامنا ہے۔
دوسری جانب بھارت کو گروپ میں قیمتی پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے انکار کے باوجود شیڈول کے مطابق گراؤنڈ میں پہنچنا ہوگا جہاں وہ مخالف ٹیم کا انتظار کرے اور بعد از میچ پریس کانفرنس سمیت دیگر عمل مکمل کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں دو پوائنٹس حاصل ہوں گے۔
پاکستان ٹیم 7 فروری کو اپنا پہلا میچ کھیلا گا، گروپ میں بھارت کے علاوہ نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا کی ٹیمیں شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمار یادیو فروری کو
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان