دہلی میں منعقدہ میٹنگ میں کانگریس نے ریاست مغربی بنگال میں تنہا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مغربی بنگال کانگریس کمیٹی کے لیڈران کی میٹنگ ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ مغربی بنگال میں رواں سال اسمبلی انتخاب ہونا ہے، اس کے پیش نظر کانگریس کے سرکردہ لیڈران کی آج انتہائی اہم میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں تبادلہ خیال کے بعد کانگریس نے مغربی بنگال میں تنہا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی کانگریس کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ اس بارے میں کانگریس لیڈر اور مغربی بنگال معاملہ کے انچارج غلام احمد میر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے تفصیلی جانکاری دی۔ کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر یہ میٹنگ ہوئی، جس میں پارٹی صدر کے علاوہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے کئی اہم لیڈران موجود تھے۔
میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مغربی بنگال کانگریس کمیٹی کے لیڈران کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں مغربی بنگال میں ہونے والے انتخاب سے متعلق حکمت عملی پر بات چیت کی گئی، جس میں سبھی نے اپنے مشورے دیے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ سبھی سے تبادلہ خیال کے بعد طے ہوا ہے کہ مغربی بنگال میں کانگریس سبھی 294 سیٹوں پر تنہا انتخاب لڑے گی۔ ہم اسی کے مدنظر تیاری کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ 2016ء اور 2021ء کے اسمبلی انتخابات میں کاگنریس کا بایاں محاذ کے ساتھ اتحاد قائم ہوا تھا۔ لیکن اس بار کانگریس نے بایاں محاذ پارٹیوں کے ساتھ اتحاد سے متعلق کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ بایاں محاذ سے کسی طرح کی بات چیت نہ ہونے سے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ کانگریس ٹی ایم سی (ترنمول کانگریس) کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے۔ لیکن اب یہ صاف ہو گیا ہے کہ کانگریس نے تنہا انتخابی میدان میں اترے گی۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اس فیصلہ کا استقبال کیا ہے اور کہا ہے کہ اعلیٰ کمان نے جو فیصلہ کیا، ہم اس کے ساتھ ہیں۔
کانگریس اور بایاں محاذ نے 2016ء میں جب مل کر انتخاب لڑا تھا، تب کانگریس نے 44 سیٹیں جیتی تھیں، جبکہ سی پی آئی ایم کو 26 سیٹیں ملی تھیں۔ 2021ء میں لیفٹ فرنٹ اور کانگریس دونوں کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ 2024ء کے پارلیمانی انتخاب میں بھی کانگریس نے بایاں محاذ کے ساتھ اتحاد کیا تھا، لیکن اس میں بھی خاطر خواہ فائدہ دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ کانگریس کو ایک سیٹ پر کامیابی ملی تھی، جبکہ سی پی آئی ایم کے ہاتھ ایک بھی سیٹ نہیں لگی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مغربی بنگال میں کے ساتھ اتحاد تنہا انتخاب کانگریس نے کہ کانگریس بایاں محاذ میٹنگ ہوئی کے بعد
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔