ہانیہ عامر پر مشی خان کے سنگین الزامات، کیا اداکارہ واقعی غلط راستے پر ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستانی شوبز کی سینئر میزبان، اینکر اور سماجی کارکن مشی خان اداکارہ ہانیہ عامر کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
مشی خان ایک بار پھر اپنے دوٹوک مؤقف کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔ وہ مختلف معاملات پر کھل کر رائے دینے کے لیے جانی جاتی ہیں اور چاہے معاملہ شوبز انڈسٹری کا ہو یا سیاست کا، اپنی بات کہنے سے نہیں جھجکتیں۔
مشی خان نے انسٹاگرام پر چند تصاویر شیئر کیں جن میں ہانیہ عامر ایک مخصوص ہاتھ کے اشارے کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ مشی خان کا کہنا ہے کہ یہ علامت مبینہ طور پر ’ایلومیناٹی‘ سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے اور ہانیہ عامر نے یہ انداز ایک سے زیادہ مرتبہ اختیار کیا ہے، جس پر وہ سوال اٹھا رہی ہیں۔
بعض لوگوں کے مطابق یہ اشارہ اشاروں کی زبان میں ’’آئی لو یو‘‘ کہنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہانیہ اس انداز میں پوز دیتی ہیں۔
ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ صارفین کی رائے واضح طور پر تقسیم ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ ہانیہ عامر کے حق میں سامنے آئے جبکہ کچھ نے مشی خان کے مؤقف کی تائید کی۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ بڑی عمر کی خواتین ہانیہ کے پیچھے کیوں پڑ جاتی ہیں؟‘‘ جبکہ ایک اور نے لکھا، ’’میں مشی سے متفق ہوں، میں نے بھی یہ اشارہ پہلے نوٹ کیا تھا۔‘‘ دوسری طرف کئی افراد نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کو سائن لینگویج کے بارے میں پڑھنا چاہیے، یہ دراصل محبت کے اظہار کا نشان ہے۔‘‘
مشی خان کے الزامات کے بعد ہانیہ عامر نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کی جس میں مشی خان کی شیئر کی گئی پوسٹ کا اسکرین شاٹ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’میری امی نے یہ مجھے بھیجا ہے‘‘۔ دوسری تصویر میں ہانیہ نے لکھا کہ ’’میری امی اور مشی خان کو کون بتائے گا؟‘‘
اس تازہ بحث نے سوشل میڈیا پر ایک نئی ہلچل پیدا کردی ہے، جہاں مداح اور ناقدین دونوں اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ میدان میں آ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔