پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے وفد کی قمر زمان کائرہ سے ملاقات، تنظیمی امور اور عام انتخابات پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
وفد نے اپنی تجاویز اور خدشات سے قمر زمان کائرہ کو آگاہ کیا۔ قمر زمان کائرہ نے وفد کی باتیں غور سے سنیں اور یقین دہانی کرائی کہ ان نکات کو پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے ایک وفد نے سابق وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ سے ملاقات کی۔ وفد میں صدر پاکستان پیپلز پارٹی بلتستان ڈویژن بشارت ظہیر، دیامر ڈویژن کے صدر محمد ولی، گلگت ڈویژن کے جنرل سیکرٹری سلطان گولڈن، ضلع گانچھے کے چیئرمین ابراہیم، ضلع گلگت کے صدر فدا حسین، ضلع دیامر کے صدر سید طیفور شاہ، ڈسٹرکٹ سکردو کے سینئر نائب صدر وزیر اقبال اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما محمد جعفر شامل تھے۔ ملاقات میں تنظیمی امور اور آئندہ انتخابات کے پارلیمانی بورڈ میں ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کی نمائندگی ہر صورت یقینی بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفد نے اپنی تجاویز اور خدشات سے قمر زمان کائرہ کو آگاہ کیا۔ قمر زمان کائرہ نے وفد کی باتیں غور سے سنیں اور یقین دہانی کرائی کہ ان نکات کو پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈویژن اور ڈسٹرکٹ تنظیموں کی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے براہِ راست ملاقات کو بھی ممکن بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قمر زمان کائرہ
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟