فلاور شو کا مقصد پودوں، درختوں اور ماحول کی اہمیت اجاگر کرنا ہے، میئر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی چڑیا گھر میں سالانہ فلاورشو کا افتتاح کر دیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ کراچی چڑیا گھر کو تفریح اور ماحول دوست مقام بنانےکے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی زو میں ترقیاتی کام تیزی سےجاری ہیں، زو میں جانوروں کی بہتر دیکھ بھال اور سہولتیں ہماری ترجیحات ہیں۔
میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فلاور شو کا مقصد پودوں، درختوں اور ماحول کی اہمیت اُجاگر کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی زو میں شجرکاری اور گرین ایریاز کو وسعت دی جا رہی ہے، کراچی زو میں شہریوں کے لیے ثقافتی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ ہم کراچی والے کشمیری بھائی بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی بہتری اور ترقی کے سفر کو جاری رکھےگی۔
انہوں نے کہا بلاول بھٹو کی سربراہی میں سب منشور پر کھڑےہیں اور محنت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میئر کراچی نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔