ملتان میں یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ملتان کے امیر کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ تحریکِ آزادی کشمیر کو ازسرِ نو منظم کیا جائے اور عالمی سطح پر اس مقدمے کو پوری قوت کے ساتھ اجاگر کیا جائے۔ بھارت سے تجارت کے بجائے اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کو معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے کشمیریوں کا مقدمہ پوری دنیا میں مضبوط انداز سے لڑنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعتِ اسلامی ملتان کے زیرِاہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر نکالی گئی ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ملتان صہیب عمار صدیقی نے کہا ہے کہ کشمیر سہ فریقی بین الاقوامی مسئلہ اور پاکستان کی نظریاتی تکمیل کا حصہ ہے۔ کشمیر پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ پاکستانی قوم قبول نہیں کرے گی، جو کشمیر کا سودا کرے گا قوم اسے نشانِ عبرت بنائے گی۔ اس موقع پر خواجہ عاصم ریاض سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ملتان، خواجہ صغیر احمد نائب امیر ضلع، اسد منیر نائب امیر ضلع، کلیم اکبر صدیقی، ناظمہ حلقہ خواتین ملتان رضیہ عابد صاحبہ خواتین، مرد اور بچوں سمیت اہلیان ملتان کی کثیر تعداد موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے کشمیر کاز کو دانستہ طور پر پسِ پشت ڈالا گیا، جس سے بھارت کو فائدہ پہنچا۔ وقت آ گیا ہے کہ تحریکِ آزادی کشمیر کو ازسرِ نو منظم کیا جائے اور عالمی سطح پر اس مقدمے کو پوری قوت کے ساتھ اجاگر کیا جائے۔ بھارت سے تجارت کے بجائے اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کو معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے کشمیریوں کا مقدمہ پوری دنیا میں مضبوط انداز سے لڑنا ہوگا۔

صہیب عمار صدیقی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں اور لاکھوں قابض افواج کی موجودگی میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ کشمیری قیادت کو ساتھ ملا کر مسئلہ کشمیر پر سفارتی سرگرمیوں کو تیز کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم بھارتی عوام کے مخالف نہیں، لیکن جب تک کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت نہیں ملتا، بھارت سے کسی قسم کے تعلقات قبول نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کی خاموشی افسوسناک ہے، جبکہ پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر ماضی کی نسبت کمزور آواز سنائی دیتی ہے۔ کشمیر پر خاموشی دراصل بھارتی مظالم کی بالواسطہ حمایت کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی ملتان نے کہا کہ عوام کو کمزور معیشت کے بہانے سے ڈرا کر قومی موقف سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ملتان عالمی سطح پر کیا جائے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی