بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کررہا ہے‘ہمارے حکمراںخاموش ہیں‘امیر العظیم
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)مرکزی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے جماعت اسلامی کراچی کے زیر اہتمام مزار قائد نیو ایم اے جناح روڈ پر یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کررہا ہے لیکن ہمارے حکمران خاموش ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نے فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے اپنے آئین میں کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیالیکن ہمارے حکمرانوں نے کوئی اقدام نہیں کیا ،مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جو کشمیر کا وکیل ہے، مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتا،جب بھی کشمیر کی جدوجہد تیز ہوتی ہے اسلام آباد سے کشمیر کے جھنڈے ہٹالیے جاتے ہیں، جس دن بھارت کا پائلٹ پکڑا کیا گیا تھا اس وقت حکومت کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا کہ سید علی گیلانی کی نظر بندی ختم اور یاسین ملک کو رہا کیا جائے لیکن حکمرانوں نے بزدلی کا مظاہرہ کیا ،اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے حکمران بزدلی اور مصلحت ترک کر کے اہل کشمیر کی بھارت سے آزادی کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑیں ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اہل کشمیر کا حق ہے کہ ان کو ان کے رائے کی آزادی اور حق خود ارادیت دیا جائے ۔قبل ازیں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر قیادت جیل چورنگی تا نیو ایم اے جناح روڈمزار قائد تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی اور شرکا نے پیدل مارچ کیا ۔ منعم ظفر و دیگر رہنمائوں نے ایک بڑا بینراُٹھا یا ہوا تھا جس پر تحریر تھا’’ 5فروری یوم یکجہتی کشمیر ، کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کی جائے ،شرکا نے ہاتھوں میں بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر’’ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ تسلط، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف اور اہل کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے اور کشمیر بنے گا پاکستان سمیت دیگر نعرے درج تھے‘‘۔یکجہتی کشمیر ریلی سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، نائب امیرو اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ،ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبد الرزاق خان،جماعت اسلامی کراچی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ،جے آئی یوتھ کراچی کے صدر ہاشم ابدالی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ امیر العظیم نے مزید کہا کہ کشمیر میں کئی نسلیں گزر گئیں لیکن شہدا کی قطاریں ختم نہ ہوسکیں۔ بھارتی افواج کا ظلم و جبر اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے لیکن جب بھی کسی نوجوان کی شہادت ہوتی ہے تو نوجوان ہی نہیں گھروں سے مائیں ، بہنیں بھی نکلتی ہیں اور احتجاج کرتی ہیں۔ کشمیری مائیں جانتی ہیں کہ اگر بھارتی افواج کو پتا چل جائے کہ یہ ان کا بیٹا ہے توان کا گھر مسمار کردیا جائے گا اس کے باوجود مائیں گھروں سے نکلتی ہیں۔ 14 اگست کے دن کشمیریوں کے گھروں پر آگ لگی ہوتی ہے لیکن وہ پاکستان کا یوم آزادی مناتے ہیں اور 15اگست کو یوم سیاہ مناتے ہیں ۔منعم ظفر خان نے کہا کہ پاکستانی کی قومی پالیسی روز اول سے یہی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان، سید علی گیلانی کی شروع کی گئی آزادی کی تحریک آج تک جاری ہے۔قاضی حسین احمد نے اہل کشمیر کی پکار پر پوری دنیا کے باضمیر انسانوں کو کشمیر کی پشت پر کھڑا کیا ہے اور 36 سال سے 5فروری کو اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے ، 78 سال گزر گئے آج تک اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہیں ہوا، مغربی تیمور اور جنوبی سوڈان کا مسئلہ ہو تو اقوام متحدہ حرکت میں آجاتی ہے لیکن اہل کشمیر کو 78 سال گزرنے کے بعد بھی آزادی نہیں دی گئی،بھارت نے اپنے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے کشمیریوں کے حق پر ڈاکا ڈالا ہے، کشمیر کاز کے لیے دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیری ڈیسک قائم اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑا جائے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اہل کشمیر کو حق نہ ملا تو پھر جہاد اور میدان جنگ میں ہی کشمیر کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ، آج بھی کشمیریوں کی جدوجہد پاکستان سے الحاق کے لیے ہے، بھارت نے بدترین ریاستی جبر و تشدد کا مظاہرے کرتے ہوئے کشمیریوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم نہیں کرسکا۔ حکمرانوں کی نا قص پالیسیوں کے باعث او آئی سی کے ایجنڈے پر بھی کشمیر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، افسوس ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے کشمیر کاز کے لیے کوئی سنجیدہ ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں کیے ، حکومت پاکستان کشمیر کے مسئلے پر امریکی غلامی میں مبتلا ہیں ، موجودہ حکمران جنہیں فارم 47 کی شکل میں عوام کر مسلط کیا گیا ہے انہیں بھی کشمیر کاز سے کوئی دلچسپی نہیں ، موجودہ حکمران کرپٹ ٹولہ ہے جو صرف ایک دوسرے کو سپورٹ کرتا ہے ،پاکستانی حکمران ٹرمپ کو خوش کرنے لیے امریکا کے ایجنڈے کو مکمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ پوری قوم کا نظریہ ہے، کشمیر میں رہنے والا ہر فرد بھی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے ، بد قسمتی سے پاکستان میں ایسی حکومت قائم ہے جو فارم 47 کے ذریعے مسلط ہو ئی ہے، یہ ایسے حکمران ہیں جنہیں پاکستان سے کوئی غرض نہیں ہے وہ کشمیر کی کیا بات کریں گے، ہم ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں کہ جس میں عوام کو آزادی حاصل ہوگی ، ہم تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا بھی مکمل کریں گے۔ توفیق الدین صدیقی نے کہا کہ بھارتی افواج نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے،کشمیر ی لڑکوں اور لڑکیوں پر تعلیم حاصل کرنے کی پابندی لگادی گئی ہے،کشمیر کا رہنے والا ہر فرد پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے لیکن حکمرانوں کو کشمیر کے رہنے والے مظلوم مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے،کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں، کشمیریوں کا خون ضرور رنگ لائے گا اور کشمیر ضرور بھارت کے قبضے سے آزاد ہوگا۔ عبد الرزاق خان نے کہا کہ بھارتی مسلح افواج زبردستی کشمیر پر قابض ہیں اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کررہی ہے۔ بھارت نے ہر طرف سے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے، بھارتی افواج کشمیری ماؤں،بہنوں، بیٹیوں اور بزرگوں کی عزت پامال کررہی ہیں، کشمیری حق خود ارادیت کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں، بد قسمتی سے حکمران ٹولہ کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یونس سوہن ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتی برادری کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے کشمیر کاز کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ حکمرانوں کا کام ہے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائیں ، کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی اقوام متحدہ کی حق خود ارادیت یکجہتی کشمیر بھارتی افواج کشمیریوں کے کہ پاکستان کشمیر کاز بھی کشمیر اہل کشمیر نے کہا کہ ہے کشمیر کشمیر کا کشمیر کی کے مطابق کشمیر کو کشمیر کے ہے لیکن کے لیے
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.