data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)مرکزی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے جماعت اسلامی کراچی کے زیر اہتمام مزار قائد نیو ایم اے جناح روڈ پر یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کررہا ہے لیکن ہمارے حکمران خاموش ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نے فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے اپنے آئین میں کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیالیکن ہمارے حکمرانوں نے کوئی اقدام نہیں کیا ،مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جو کشمیر کا وکیل ہے، مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتا،جب بھی کشمیر کی جدوجہد تیز ہوتی ہے اسلام آباد سے کشمیر کے جھنڈے ہٹالیے جاتے ہیں، جس دن بھارت کا پائلٹ پکڑا کیا گیا تھا اس وقت حکومت کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا کہ سید علی گیلانی کی نظر بندی ختم اور یاسین ملک کو رہا کیا جائے لیکن حکمرانوں نے بزدلی کا مظاہرہ کیا ،اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے حکمران بزدلی اور مصلحت ترک کر کے اہل کشمیر کی بھارت سے آزادی کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑیں ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اہل کشمیر کا حق ہے کہ ان کو ان کے رائے کی آزادی اور حق خود ارادیت دیا جائے ۔قبل ازیں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر قیادت جیل چورنگی تا نیو ایم اے جناح روڈمزار قائد تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی اور شرکا نے پیدل مارچ کیا ۔ منعم ظفر و دیگر رہنمائوں نے ایک بڑا بینراُٹھا یا ہوا تھا جس پر تحریر تھا’’ 5فروری یوم یکجہتی کشمیر ، کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کی جائے ،شرکا نے ہاتھوں میں بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر’’ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ تسلط، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف اور اہل کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے اور کشمیر بنے گا پاکستان سمیت دیگر نعرے درج تھے‘‘۔یکجہتی کشمیر ریلی سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، نائب امیرو اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ،ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبد الرزاق خان،جماعت اسلامی کراچی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ،جے آئی یوتھ کراچی کے صدر ہاشم ابدالی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ امیر العظیم نے مزید کہا کہ کشمیر میں کئی نسلیں گزر گئیں لیکن شہدا کی قطاریں ختم نہ ہوسکیں۔ بھارتی افواج کا ظلم و جبر اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے لیکن جب بھی کسی نوجوان کی شہادت ہوتی ہے تو نوجوان ہی نہیں گھروں سے مائیں ، بہنیں بھی نکلتی ہیں اور احتجاج کرتی ہیں۔ کشمیری مائیں جانتی ہیں کہ اگر بھارتی افواج کو پتا چل جائے کہ یہ ان کا بیٹا ہے توان کا گھر مسمار کردیا جائے گا اس کے باوجود مائیں گھروں سے نکلتی ہیں۔ 14 اگست کے دن کشمیریوں کے گھروں پر آگ لگی ہوتی ہے لیکن وہ پاکستان کا یوم آزادی مناتے ہیں اور 15اگست کو یوم سیاہ مناتے ہیں ۔منعم ظفر خان نے کہا کہ پاکستانی کی قومی پالیسی روز اول سے یہی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان، سید علی گیلانی کی شروع کی گئی آزادی کی تحریک آج تک جاری ہے۔قاضی حسین احمد نے اہل کشمیر کی پکار پر پوری دنیا کے باضمیر انسانوں کو کشمیر کی پشت پر کھڑا کیا ہے اور 36 سال سے 5فروری کو اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے ، 78 سال گزر گئے آج تک اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہیں ہوا، مغربی تیمور اور جنوبی سوڈان کا مسئلہ ہو تو اقوام متحدہ حرکت میں آجاتی ہے لیکن اہل کشمیر کو 78 سال گزرنے کے بعد بھی آزادی نہیں دی گئی،بھارت نے اپنے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے کشمیریوں کے حق پر ڈاکا ڈالا ہے، کشمیر کاز کے لیے دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیری ڈیسک قائم اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑا جائے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اہل کشمیر کو حق نہ ملا تو پھر جہاد اور میدان جنگ میں ہی کشمیر کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ، آج بھی کشمیریوں کی جدوجہد پاکستان سے الحاق کے لیے ہے، بھارت نے بدترین ریاستی جبر و تشدد کا مظاہرے کرتے ہوئے کشمیریوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم نہیں کرسکا۔ حکمرانوں کی نا قص پالیسیوں کے باعث او آئی سی کے ایجنڈے پر بھی کشمیر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، افسوس ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے کشمیر کاز کے لیے کوئی سنجیدہ ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں کیے ، حکومت پاکستان کشمیر کے مسئلے پر امریکی غلامی میں مبتلا ہیں ، موجودہ حکمران جنہیں فارم 47 کی شکل میں عوام کر مسلط کیا گیا ہے انہیں بھی کشمیر کاز سے کوئی دلچسپی نہیں ، موجودہ حکمران کرپٹ ٹولہ ہے جو صرف ایک دوسرے کو سپورٹ کرتا ہے ،پاکستانی حکمران ٹرمپ کو خوش کرنے لیے امریکا کے ایجنڈے کو مکمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ پوری قوم کا نظریہ ہے، کشمیر میں رہنے والا ہر فرد بھی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے ، بد قسمتی سے پاکستان میں ایسی حکومت قائم ہے جو فارم 47 کے ذریعے مسلط ہو ئی ہے، یہ ایسے حکمران ہیں جنہیں پاکستان سے کوئی غرض نہیں ہے وہ کشمیر کی کیا بات کریں گے، ہم ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں کہ جس میں عوام کو آزادی حاصل ہوگی ، ہم تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا بھی مکمل کریں گے۔ توفیق الدین صدیقی نے کہا کہ بھارتی افواج نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے،کشمیر ی لڑکوں اور لڑکیوں پر تعلیم حاصل کرنے کی پابندی لگادی گئی ہے،کشمیر کا رہنے والا ہر فرد پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے لیکن حکمرانوں کو کشمیر کے رہنے والے مظلوم مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے،کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں، کشمیریوں کا خون ضرور رنگ لائے گا اور کشمیر ضرور بھارت کے قبضے سے آزاد ہوگا۔ عبد الرزاق خان نے کہا کہ بھارتی مسلح افواج زبردستی کشمیر پر قابض ہیں اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کررہی ہے۔ بھارت نے ہر طرف سے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے، بھارتی افواج کشمیری ماؤں،بہنوں، بیٹیوں اور بزرگوں کی عزت پامال کررہی ہیں، کشمیری حق خود ارادیت کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں، بد قسمتی سے حکمران ٹولہ کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یونس سوہن ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتی برادری کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے کشمیر کاز کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ حکمرانوں کا کام ہے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائیں ، کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلایا جائے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی اقوام متحدہ کی حق خود ارادیت یکجہتی کشمیر بھارتی افواج کشمیریوں کے کہ پاکستان کشمیر کاز بھی کشمیر اہل کشمیر نے کہا کہ ہے کشمیر کشمیر کا کشمیر کی کے مطابق کشمیر کو کشمیر کے ہے لیکن کے لیے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود