Jasarat News:
2026-06-03@00:28:01 GMT

اسلام کا تصور قانون و عدالت

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام کا تصور قانون و عدالت بہت جامع، متوازن اور ہمہ جہت (multi-dimensional) ہے۔ عمومی طور سے اسلام میں دو طرح کے قوانین ہیں۔ قوانین کا ایک حصہ وہ ہے جہاں نصوص ہی میں قوانین کی تمام یا بیشتر تفصیلات طے کر دی گئی ہیں اور اس کی ایک مثال سزاؤں میں حدود یا عائلی قوانین میں طلاق کا نظام ہے۔ دوسری قسم ان قوانین کی ہے جہاں نصوص نے کوئی متعین چیز فراہم نہیں کی ہے بلکہ عمومی اور اصولی ہدایات اور ایک وسیع فریم ورک فراہم کردیا ہے اور اس کے اندر پوری آزادی کے ساتھ قوانین بنانے کی آزادی دی ہے اور اس کی ایک مثال سزاؤں میں حدود اور قصاص کے علاوہ تمام سزائیں ہیں جن کو تعزیرات کہتے ہیں۔ جہاں تک ان سزاؤں یا قوانین کا معاملہ ہے جو براہ راست شریعت نے طے کر دی ہیں تو ان کے تعلق سے عدالت ہو یا قانون ساز مجلس یا سربراہ مملکت خود بھی کوئی تصرف نہیں کرسکتا۔

لبتہ اس کے نفاذ سے پہلے شرائط کو مکمل طور سے یقینی بنالینا قاضی کی ذمے داری ہے۔ چنانچہ ان قوانین خصوصا حدود کے تعلق سے دو بڑے اہم اور اصولی قاعدے ہیں جن کا خیال رکھنا ایک قاضی کے لیے ضروری مانا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی طرح کا بھی شبہہ باقی ہو تو سزا کو دفع کردیا جائے گا اور دوسرا قاعدہ یہ کہ غلطی سے معاف کرنا غلطی سے سزا دینے سے بہت زیادہ بہتر ہے (تفضیل الخطأ فی العفو)۔ البتہ اگر نصوص میں کچھ تفصیلات متعین نہ ہوں یا کسی طرح کا غموض ہو تو قاضی کو اختیار ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں نصوص کا مفہوم و مدعا طے کرے۔ اسی طرح اگر کوئی ایسی بڑی مصیبت آتی ہے جس کا تعلق پورے معاشرے اور ریاست سے ہے تو ایسے میں حکومت کو یہ اختیار ہوگا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے ان قوانین کو موقوف کردے البتہ یہ اختیار صرف حکومت کا ہوگا، قاضی کو اس سلسلے میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ لیکن وہ قوانین جو شریعت میں باقاعدہ متعین نہیں ہیں اور جن کی ایک مثال تعزیرات کی ہے تو اس سلسلے میں اسلام کا موقف بہت ہی لچکدار اور قاضی کو بہت با اختیار بنانے کا ہے۔ چنانچہ اسلامی شریعت اور جدید قوانین پر گہری مہارت رکھنے والے مشہور مصنف عبدالقادر عودہ اپنی شہرہ آفاق کتاب التشریع الجنائی الاسلامی میں لکھتے ہیں: ’’اور جہاں تک تعزیرات کی بات ہے تو اس میں قاضی کو بہت وسیع اختیارات ہوتے ہیں کہ کس طرح کی سزا وہ طے کرے گا اور اس کی کیا مقدار متعین کرے گا۔ اس کو اس کا بھی اختیار ہوگا کہ وہ بہت سخت سزا دے اور اس کا بھی اختیار ہوگا کہ بہت ہلکی سزا دے، جرم اور مجرم کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے۔ اس کا یہ اختیار بھی ہوگا کہ سزا نافذ کرنے کا حکم دے اور یہ بھی اختیار ہوگا کہ سزا موقوف کردے‘‘۔

گویا اسلام میں قانونی اختیارات کو تین مراتب میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ پہلا مرتبہ وحی اور نصوص کا ہے جہاں کسی بھی سطح پر کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
دوسرا مرتبہ قانون ساز مجلس کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں اصولی یا عمومی نوعیت کی چیزوں کو باقاعدہ طے کردیا جائے اور ایسی چیزوں سے متعلق قوانین بنا دیے جائیں جن کا تعلق لوگوں کے انفرادی احوال سے نہ ہو اور قاضی کو اس میں تصرف کی گنجائش نہ ہو۔
تیسرا مرتبہ قاضی اور عدالت کی سطح کا ہو جہاں تفصیلات کے حوالے سے ایک بڑے فریم ورک میں رہتے ہوئے قاضی کو مخصوص حالات اور متعلق صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ لینے کی پوری آزادی ہو۔
گویا اسلام میں قاضی یا جج کی حیثیت محض قانون نافذ کرنے والے کی نہیں بالکہ ایک مجتہد اور بابصیرت اور بااختیار ذمے دار کی ہوتی ہے۔ چنانچہ امام ماوردی جو فقہ شافعی کے ایک بڑے امام مانے جاتے ہیں قاضی کی شرائط ذکر کرتے ہوئے اجتہاد کی شرط کو لازمی قرار دیتے ہیں اور ساتھ ہی قاضی کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے مسلک کے علاوہ بھی کسی مسلک کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے اپنے اجتہاد کی روشنی میں۔

ذو القرنین حیدر سبحانی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے جہاں قاضی کو

پڑھیں:

سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی

---فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔ 

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔

سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

سارا انعام قتل کیس: سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کیخلاف اپیل میں نوٹس جاری

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز امیر اور والدہ پر فرد جرم عائد

اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی