Jasarat News:
2026-07-24@04:09:10 GMT

اسلام کا تصور قانون و عدالت

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام کا تصور قانون و عدالت بہت جامع، متوازن اور ہمہ جہت (multi-dimensional) ہے۔ عمومی طور سے اسلام میں دو طرح کے قوانین ہیں۔ قوانین کا ایک حصہ وہ ہے جہاں نصوص ہی میں قوانین کی تمام یا بیشتر تفصیلات طے کر دی گئی ہیں اور اس کی ایک مثال سزاؤں میں حدود یا عائلی قوانین میں طلاق کا نظام ہے۔ دوسری قسم ان قوانین کی ہے جہاں نصوص نے کوئی متعین چیز فراہم نہیں کی ہے بلکہ عمومی اور اصولی ہدایات اور ایک وسیع فریم ورک فراہم کردیا ہے اور اس کے اندر پوری آزادی کے ساتھ قوانین بنانے کی آزادی دی ہے اور اس کی ایک مثال سزاؤں میں حدود اور قصاص کے علاوہ تمام سزائیں ہیں جن کو تعزیرات کہتے ہیں۔ جہاں تک ان سزاؤں یا قوانین کا معاملہ ہے جو براہ راست شریعت نے طے کر دی ہیں تو ان کے تعلق سے عدالت ہو یا قانون ساز مجلس یا سربراہ مملکت خود بھی کوئی تصرف نہیں کرسکتا۔

لبتہ اس کے نفاذ سے پہلے شرائط کو مکمل طور سے یقینی بنالینا قاضی کی ذمے داری ہے۔ چنانچہ ان قوانین خصوصا حدود کے تعلق سے دو بڑے اہم اور اصولی قاعدے ہیں جن کا خیال رکھنا ایک قاضی کے لیے ضروری مانا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی طرح کا بھی شبہہ باقی ہو تو سزا کو دفع کردیا جائے گا اور دوسرا قاعدہ یہ کہ غلطی سے معاف کرنا غلطی سے سزا دینے سے بہت زیادہ بہتر ہے (تفضیل الخطأ فی العفو)۔ البتہ اگر نصوص میں کچھ تفصیلات متعین نہ ہوں یا کسی طرح کا غموض ہو تو قاضی کو اختیار ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں نصوص کا مفہوم و مدعا طے کرے۔ اسی طرح اگر کوئی ایسی بڑی مصیبت آتی ہے جس کا تعلق پورے معاشرے اور ریاست سے ہے تو ایسے میں حکومت کو یہ اختیار ہوگا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے ان قوانین کو موقوف کردے البتہ یہ اختیار صرف حکومت کا ہوگا، قاضی کو اس سلسلے میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ لیکن وہ قوانین جو شریعت میں باقاعدہ متعین نہیں ہیں اور جن کی ایک مثال تعزیرات کی ہے تو اس سلسلے میں اسلام کا موقف بہت ہی لچکدار اور قاضی کو بہت با اختیار بنانے کا ہے۔ چنانچہ اسلامی شریعت اور جدید قوانین پر گہری مہارت رکھنے والے مشہور مصنف عبدالقادر عودہ اپنی شہرہ آفاق کتاب التشریع الجنائی الاسلامی میں لکھتے ہیں: ’’اور جہاں تک تعزیرات کی بات ہے تو اس میں قاضی کو بہت وسیع اختیارات ہوتے ہیں کہ کس طرح کی سزا وہ طے کرے گا اور اس کی کیا مقدار متعین کرے گا۔ اس کو اس کا بھی اختیار ہوگا کہ وہ بہت سخت سزا دے اور اس کا بھی اختیار ہوگا کہ بہت ہلکی سزا دے، جرم اور مجرم کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے۔ اس کا یہ اختیار بھی ہوگا کہ سزا نافذ کرنے کا حکم دے اور یہ بھی اختیار ہوگا کہ سزا موقوف کردے‘‘۔

گویا اسلام میں قانونی اختیارات کو تین مراتب میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ پہلا مرتبہ وحی اور نصوص کا ہے جہاں کسی بھی سطح پر کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
دوسرا مرتبہ قانون ساز مجلس کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں اصولی یا عمومی نوعیت کی چیزوں کو باقاعدہ طے کردیا جائے اور ایسی چیزوں سے متعلق قوانین بنا دیے جائیں جن کا تعلق لوگوں کے انفرادی احوال سے نہ ہو اور قاضی کو اس میں تصرف کی گنجائش نہ ہو۔
تیسرا مرتبہ قاضی اور عدالت کی سطح کا ہو جہاں تفصیلات کے حوالے سے ایک بڑے فریم ورک میں رہتے ہوئے قاضی کو مخصوص حالات اور متعلق صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ لینے کی پوری آزادی ہو۔
گویا اسلام میں قاضی یا جج کی حیثیت محض قانون نافذ کرنے والے کی نہیں بالکہ ایک مجتہد اور بابصیرت اور بااختیار ذمے دار کی ہوتی ہے۔ چنانچہ امام ماوردی جو فقہ شافعی کے ایک بڑے امام مانے جاتے ہیں قاضی کی شرائط ذکر کرتے ہوئے اجتہاد کی شرط کو لازمی قرار دیتے ہیں اور ساتھ ہی قاضی کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے مسلک کے علاوہ بھی کسی مسلک کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے اپنے اجتہاد کی روشنی میں۔

ذو القرنین حیدر سبحانی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے جہاں قاضی کو

پڑھیں:

 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع

اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن